بلوچستان کے علاقے آواران بیدری سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار ڈاکٹر عبدالحی بلوچ کی ہمشیرہ نے کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسزن کے کیمپ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اگرمیرے بھائی کوبازیاب نہیں کیا گیا کہ تو 20 اگست کو کوئٹہ میں بلوچستان یونیورسٹی سے لے کر ریڈ زوں تک ایک احتجاجی ریلی نکالیں گے۔
اس موقع پر ماما قدیربلوچ بھی موجود تھے ۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے بھائی ڈاکٹر عبدالحی ولد حاجی محمد اسلم ساکن آواران بیدی کو یکم جون 2024 کو سیکورٹی فورسز نے دوران ڈیوٹی اغوا کیا۔ میرے بھائی آواران کے ڈسٹرکٹ ہسپتال میں بطور آپریشن تھیئٹر اسسٹنٹ تعینات تھے۔ وہ ایک مخلص ڈاکٹر ہیں جو کہ اپنی ڈیوٹی باقاعدگی کے ساتھ ایمانداری سے ادا کرتے رہے ہیں انہیں سیکیورٹی فورسز نے بنا کوئی وجہ بتائے یکم جون 2024 کو اغوا کیا ہے جو تاحال لاپتہ ہیں۔
انہوںنے کہا کہ میرے بھائی ڈاکٹر عبدالحی کو اغوا کرنے کے بعد ایک بار گھر لائے تھے اور ان کے گھر کی تلاشی لی تھی مگر سیکیورٹی فورسز کو گھر میں سے کتابوں کے علاوہ کچھ نہیں ملا تھا۔ اس دوران سیکیورٹی فورسز نے گھر والوں کو دھمکایا بھی کہ ڈاکٹر عبدالحی کی جبری گمشدگی کے بارے میں اطلاع نہ دیں تو ڈاکٹر عبدالحی کو 25 جولائی تک بازیاب کردیں گے۔ مگر ابھی تک انہیں سیکیورٹی فورسز نے بازیاب نہیں کیا۔ ان کی جبری گمشدگی کو اب دو ماہ دس دن گزر چکے ہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ میرے بھائی ڈاکٹر عبدالحی بلوچ کا تعلق ایک انتہائی خاموش و شریف گھرانے سے ہے، وہ ذاتی طور پر بھی ایک خاموش طبع اور اپنے کام سے کام رکھنے والے انسان ہیں۔ ان کی جبری اغوا کاری سے ہم گھر والے شدید اذیت سے دوچار ہیں اور ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ انہیں کس جرم میں اور کیونکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
ہممیڈیا کی توسط سے سیکیورٹی فورسز سے ڈاکٹر عبدالحی کو بازیاب کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔
آخر میں ان کا کہنا تھا کہ میرے بھائی ڈاکٹر عبدالحی کو اگر اب بھی بازیاب نہیں کیا گیاتو، 16 اگست کو ایکس ( ٹویٹر) پر ان کی بازیابی کے لیے ایک کیمپین چلائی جائے گی۔کیمپین کے بعد 20 اگست کو کوئٹہ میں بلوچستان یونیورسٹی سے لے کر ریڈ زوں تک ایک احتجاجی ریلی نکالیں گے۔