بلوچستان میں فرنٹیئر کور کا ایک اور ہیڈکوارٹر قائم کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
ایف سی بلوچستان (ویسٹ) کے ہیڈکوارٹر کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا، جس کی منظوری پاکستان کی وفاقی کابینہ نے 25 اپریل کو دی تھی۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق بلوچستان کا ویسٹرن ایریا رخشان ڈویژن پر مشتمل ہے، جہاں ریکوڈک اور سیندک سمیت متعدد اہم معدنیاتی منصوبے موجود ہیں۔
اس خطے کی سرحد ایران سے بھی ملتی ہے، جس کے باعث یہ علاقہ اسٹریٹجک اعتبار سے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ یہاں سونا، تانبا اور دیگر قیمتی معدنیات کے بڑے ذخائر پائے جاتے ہیں، جن کی وجہ سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی توجہ اس خطے پر مرکوز رہتی ہے۔
حالیہ دنوں میں بلوچستان کے ویسٹرن ایریا میں بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ یہ تنظیمیں بلوچستان کی معدنیات کو بلوچ قوم کی ملکیت قرار دیتی ہیں اور خود کو ان وسائل کی محافظ کہتی ہیں۔
ریکوڈک اور سیندک کے علاقوں میں گولڈ، کوپر اور تانبے کے بڑے ذخائر موجود ہیں، جہاں چین، کینیڈا اور دیگر ممالک کی کمپنیوں کے منصوبوں پر متعدد حملے ہو چکے ہیں۔ ان حملوں میں غیر ملکی انجینئرز، ماہرین اور پاکستان کے مختلف علاقوں سے لائے گئے ورکرز ہلاک ہوئے، جس کے بعد ان منصوبوں کی سیکیورٹی پر شدید تنقید سامنے آئی تھی۔
ماضی میں پاکستان کے آرمی چیف نے بلوچستان کے معدنی نمونے جن میں کوپر، گولڈ اور دیگر شامل تھےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کیے تھے اور بلوچستان میں سرمایہ کاری کی پیشکش کی تھی۔
رپورٹس کے مطابق امریکا نے ان منصوبوں میں دلچسپی ظاہر کی تھی، تاہم سیکیورٹی کی صورتحال پر تحفظات بھی موجود ہیں، کیونکہ بلوچ مسلح تنظیمیں اس خطے میں اپنی موجودگی اور کارروائیوں کی صلاحیت کا بارہا مظاہرہ کر چکی ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ایف سی (ویسٹ) کا قیام ان علاقوں اور وہاں کام کرنے والی غیر ملکی و مقامی کمپنیوں کو مزید سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے عمل میں لایا گیا ہے، تاکہ سرمایہ کاری کے عمل کو تحفظ مل سکے۔
تاہم مقامی تجزیہ کاروں، سیاسی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایف سی (ویسٹ) کا قیام سرمایہ کاروں کو اعتماد دلانے کی ایک کوشش ضرور ہے، مگر یہ اقدام بھی ماضی کے سیکیورٹی اقدامات کی طرح عارضی ثابت ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق بلوچ مسلح تنظیمیں نہ صرف اس خطے کے جغرافیے سے مکمل واقف ہیں بلکہ وہ اپنی جانیں دینے تک کی حد تک جا چکی ہیں، جس کے باعث روایتی فورسز کے لیے ان کا مقابلہ کرنا مشکل ہے۔
کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ ایف سی (ویسٹ) کا قیام دراصل وفاق سے مزید سیکیورٹی بجٹ حاصل کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو یقین دہانی کرانے کی ایک کوشش ہے، جبکہ زمینی حقائق اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔