بلوچ وائس فار جسٹس فورم کے جاری بیان میں آواران کے رہائشی جبری طور پر لاپتہ ہونے والے ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کی بہن بختاور بلوچ نے کہا ہے کہ میرے بھائی ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کو یکم جون 2024 کو ریاستی سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لے کر جبری لاپتہ کیا تھا، 44 روز گزرنے کے باوجود ان کی کوئی خبر نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہے، اس کی حالت کیا ہے اور اسے کس جرم میں جبری لاپتہ کیا گیا ہے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ میرا بھائی سرکاری ملازم ہے اور وہ آواران ڈسٹرکٹ ہسپتال میں بطور او ٹی آپریٹنگ اسسٹنٹ ہے اور اسے کلینک سے جبری لاپتہ کیا گیا اور وہ تاحال لاپتہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ اگر میرے بھائی نے کوئی جرم کیا ہے تو اسے عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے اور اگر وہ بے گناہ ہے تو اسے فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔