امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایرانی چھوٹی کشتیوں کو تباہ کرنے کے لیے ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا ہے۔
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی کوششوں کے تحت سات ایرانی چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے۔
سینٹ کام نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’آج کے اوائل میں سی ہاک اور امریکی فوج کے اے ایچ-64 اپاچی ہیلی کاپٹروں کو اُن چھوٹی ایرانی کشتیوں کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا جو تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ بن رہی تھیں۔‘
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے ایک بار پھر پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی یعنی ایرانی فوج کی تیز رفتار کشتیوں کو نشانہ بنائے جانے کی تردید کی ہے۔
تسنیم کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی فوج کی جانب سے ’چھ ایرانی فوج کی تیز رفتار کشتیوں‘ کو نشانہ بنانے کے بے بنیاد دعوے کے بعد چونکہ پاسدارانِ انقلاب کے کسی بھی جنگی جہاز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اس خبر کی نوعیت جانچنے کے لیے مقامی ذرائع سے تحقیقات کی گئیں۔
ادارے کے مطابق تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ ’امریکی افواج نے خُصَب (عمان کے ساحل) سے ایران کے ساحلوں کی جانب جانے والی عوامی سامان بردار دو چھوٹی کشتیوں پر حملہ اور فائرنگ کی اور انھیں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ان میں سوار پانچ عام شہری ہلاک ہو گئے۔‘