بلوچستان میں بارش وسیلاب کی تباہ کاریا جاری ہیں۔جس سے انسانی جانوں کی نقصانات کے حادثات وواقعات بھی سامنے آرہے ہیں۔
گذشتہ روزاوستہ محمد میں سیلابی ریلے میں بہنے سے ایک نوجوان ہلاک ہوگیا جبکہ اسی طرح مٹھڑی میں زہریلی سانپ کے کاٹکنے سے ایک بچی جان سے گئی ۔
گزشتہ شب اوستا محمد میں مسلسل بارشوں نے تباہی مچا دی ،کئی کچے مکانات گر گئے، گھروں میں پانی گھس آیا ،دو فٹ پانی ٹھر گیا۔جس سے گنداخہ ،ڈیرہ اللہ یار ،خان پور جمالی فیض آباد ،تمبو، منجھو شوری کے علاقوں میں شدید بارشیں ہوئیں۔
اس کے علاوہ بختیار آباد میں ایک نوجوان سیلابی ریلے کے نظر علاقہ کنڈی واہ کے25 سالہ امداد علی ڈومکی کو پانی بہا گیا ۔
بارہ گھنٹے سے نوجوان کا پتہ نہ چل سکا ۔
مختلف علاقوں میں کچے مکانات کے گرنے کی اطلاعات محصول ہو ئی ہیں ۔
متعد بچے خواتین کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، موبائل فون سروس نہ ہونے کی وجہ سے دشواریاں ہو رہی ہیں بجلی کا نظام درھم برھم ہیں اسپتالوں میں ایمرجنسی لگا دی گئی ہیں ۔
مزید بارشوں ہوئیں تو نقصانات ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح گزشتہ روز سونمیانی وندر کے پہاڑی علاقے موضع مٹھڑی گوٹھ محمد رحیم کے رہائشی صادق شاہوک کی 9 سالہ کمسن بچی کو زہریلے سانپ نے ڈس لیا۔
سانپ کی شکار ہونے والی کمسن بچی کو بروقت ویکسین کی فراہمی نا ہونے کی وجہ سے زہر پورے جسم میں پھیل گیا والدین اپنی کمسن بچی کو ویکسین کی فراہمی کے لیے رکشے کے ذریعے سول اسپتال وندر منتقل کر رہے تھے کہ راستے میں ہی دم توڑ گئی۔
عوامی حلقوں نے منتخب نمائندگان سے کنراج روٹ پر ایمرجنسی ریسپانس سینٹر کے قیام کے لیے اپیل کرتے ہوئے کہا پہاڑی کنراج اور دور دراز افتادہ علاقوں میں آئے روز مختلف حادثات و واقعات رونما ہوتے ہیں جن کو بروقت طبعی امداد کی فراہمی نا ہونے کی وجہ سے ہمارے پیارے ہماری آنکھوں کے سامنے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔