بلوچستان کے ضلع گوادر کے مرکزی شہر و سی پیک مرکزگوادرسٹی میں تاریخی بلوچ راجی مچی کی تیاریوں کے سلسلے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں نے گذشتہ روز گوادر کے جڑواں شہرپسنی کا دورہ کیا ہے ۔
بی وائی سی کے مرکزی رہنماؤں نے اپنے ایک روزہ دور ے میں مختلف مکاتب فکر کے لوگوں سے ملاقات کی اور 28 جولائی کو گوادر میں ہونے والی گرینڈبلوچ راجی مچی میں شرکت کی دعوت دے دی۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی رہنما صبغت اللہ شاہ جی ،وسیم سفر عبداللہ میر اور دیگر کارکنان نے گذشتہ روزپسنی کا دورہ کیا اور پسنی جیٹی میں ماہی گیر ویلفئیر سوسائٹی کے ممبران سے ملاقات کی اور بلوچستان میں ہونے والی مظالم اور خاص کر بلوچستان کے سمندر میں غیرقانونی ٹرالنگ پر گفتگو کی گئی ۔
اس موقع پر صبغت اللہ شاہ جی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج اگر بلوچستان کے سمندر میں جو غیرقانونی ٹرالنگ ہورہی ہے یہ سب کچھ اس ریاست کی ایماء پر ہورہی ہے جو ہمارے سمندر کو بانجھ کررہے ہیں۔
صبغت اللہ شاہ جی نے ماہی گیروں کو دعوت دی کہ وہ 28 جولائی کو گوادر میں ہونے والی بلوچ راجی مچی میں شرکت کرکے اپنے یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔
بی وائی سی کے مرکزی رہنماؤں نے پسنی ویلفئیرکلب میں بی این پی ،نیشنل پارٹی،ازم آزمان،انجمن تاجران پسنی اور عام طبقہ فکر کے لوگوں سے بھی ملاقات کی۔
اس موقع پر نیشنل پارٹی کے خدابخش سعید،اللہ بخش عثمان،بی این پی کے صدر شیخ احمد،ماہی گیر ویلفئیر سوسائٹی کے جنرل سیکرٹری ناخدا عنایت بلوچ،حق دو تحریک کے عزیز اسماعیل سمیت متعدد لوگوں نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ موجودہ حالات کا تقاضا یہی ہے کہ بلوچ من الحیث ایک قوم کی شکل میں متحد اور یکجاہ ہوں۔
انھوں نے کہا کہ آج بلوچ کے وسائل ،جینے کے حقوق اور ہمارے سمندر کو ٹرالنگ کے ذریعے بانجھ بنا دیا گیا ہے اور بلوچ جب تک یکجاہ اور یک مشت نہیں ہونگے اُن سے اُنکے وسائل اسی طرح لوٹے جائینگے۔
بی وائی سی کے مرکزی رہنما صبغت اللہ شاہ جی نے کہا کہ ہم ریاست سے مطالبہ کررہے ہیں کہ بلوچ قوم کی نسل کشی بند کی جائے اور بلوچ نوجوانوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے ہم اس فیڈریشن کے اندر رہ کر ایک باوقار اور باعزت زندگی گزارنے کا مطالبہ کررہے ہیں اور ہم یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ بلوچ قوم کے وسائل بلوچ قوم کے ہیں اُنھیں بے دردی سے لوٹ کر دوسروں پر تقسیم کرنے کا عمل بند ہونا چاہیے۔
انھوں نے پسنی کی سیاسی پارٹیاں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ 28 جولائی کے بلوچ راجی مچی میں بھرپور شرکت کریں۔