بلوچ نسل کشی و جبری گمشدگیوں کے مکمل خاتمے کیلئے راجی مچی کا حصہ بنو، بی وائی سی کا آگاہی پمفلٹ جاری

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے بلوچ نسل کشی وجبری گمشدگیوں کے مکمل خاتمے کیلئے گوادر میں کال کی گئی بلوچ راجی مچی ( بلوچ قومی اجتماع ) کے حوالے سے ایک آگاہی پمفلٹ جاری کی ہے ۔

پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ اسی مہینے جولائی کے 28 تاریخ بروز اتوار کو گوادر میں بلوچ راجی مچی ہوگا ۔تما م بلوچ قوم نکلو ،بلوچ قوم کوجگا دو، ضمیروں کو شکست دو ،خوف کو بیدار کرو ،آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سینہ سپر ہوکر ڈٹ کر متحد ہو کر راجی مچی میں شامل ہوکر دنیا کو پیغام دو کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں۔ بہادر ،باشعور اور خودار قوم ہیں ہماری عظمت ہماری مزاحمت ہماری جدوجہد بلوچ نسل کشی کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گی۔

پمفلٹ میں کہاگیا کہ بلوچ قوم کی آج سے نہیں پچھلے 75 سالوں سے ریاست پاکستان انتہائی بےرحمانہ و شاطرانہ انداز میں نسل کشی کر رہی ہے۔ وہ فوجی آپریشنوں و جدال و قتال کی شکل میں ، لاپتہ کرکے ٹارچر و مسخ شدہ لاشوں کی شکل میں ،بےروزگاری و ناخواندگی کی شکل میں ،باڈر بندش اور باڑ لگانے جیسے سازشی حربوں کی شکل میں، خون خوار سڑکوں پر حادثہ کی صورت منصوبہ بندی کے تحت قتل عام کی شکل میں، ماہی گیروں کی ٹرالرنگ مافیا کی ذریعے استحصال کی شکل میں ، بنیادی و انسانی حق علاج و معالجہ کی دانستہ فقدان کی شکل میں اور سب سے زیادہ اور انتہائی خطرناک ریاستی سر پرستی میں پورے قوم میں منشیات سرعام پھیلا کر پورے بلوچ قوم کو ذہنی اور جسمانی طور پر مفلوج اور مکمل ختم کرنے کی ریاستی منصوبہ بندی جو دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔

پمفلٹ میں لکھا گیا کہ کیا ہم بحیثیت قوم اپنی قومی وجود ، شناخت ، قومی بقاء کی فناء اور معدومی کو دیکھ کر پھر بھی خوف کے مارے چپ کر خاموشی سے بلوچ قوم کی زوال کے دنوں کو اسی طرح دیکھتے رہے گے ؟کیا ہماری ماوٴں اور بہنوں کی ننگ و ناموس ،عزت و غیرت کی اب اتنی اوقات نہیں بچ چکی جس کی روزانہ کی بنیاد پر پامالی دیکھتے ہوے آنکھیں نیچے کرکے خاموش رہے ؟ کیا اپنی ماوٴں، بہنوں، بچے اور بچیوں کی ہر دن سڑکوں پر لرزہ خیز چیخ و پکار کو دیکھ کر ، سن کر ،پھر بھی وہاں سے ندامت آمیزی میں گزر کر یا پھر گھر میں بیٹھ کر اپنی ضمیر اور احساسات پر خوف و طماع کی بڑا پتھر رکھ کر اسے جگانے سے انکار کر لے ؟کیا آئے روز بےروزگاری و گھریلوں تنگ دستی کے سبب اپنے زندگیوں سے مایوس ہونے والے اپنے پھول جیسے نوجوانوں کی خودکشیوں کی خبر سن کر پھر بھی ایک دفعہ اپنی ضمیر کی صدا نہیں سننا چاہیے؟جو ہمیں بار بار بتا رہی ہے، اے بلوچ آپ کی ساحل و سائل کو غیر بلوچ بے دردی سے لوٹ مار کرکے ارب پتی اور کرب پتی بن کر شان و شوکت اور پُرآسائش زندگیاں گزار رہے ہیں اور دوسری طرف آپ کی سرزمین کے مالک نوجوان درد آمیزی و مجبوری کی حالت میں دو وقت روٹی کے لیے خودکشیاں کررہے ہیں، پھر بھی آپ خاموش ہو؟ منشیات میں آج لاکھوں بلوچ نوجوان ذہنی و جسمانی طور پر مفلوج ہورے ہیں، ریاست منشیات فروشوں کو کھلی چھوٹ دیکر منشیات فروشی میں ان کا معاوان ہے اور یہ عمل بھی بلوچ نسل کشی کا حصہ ہے۔ کیا اپنے نوجوانوں کو اس طرح فنا ہوتے دیکھ کر احساس درد نہیں ہورہا؟ اے بلوچ قوم ! ہم اکیسویں صدی میں بھی اس چیز کا ادراک نہیں کرپارہے ہیں کہ بلوچ سماج اور بلوچ راج میں منصوبہ بندی کے تحت منشیات کو پھیلانے میں براہراست ریاست کا کردار ہے؟

Share This Article
Leave a Comment