بلوچ قلمکار اور بلوچ قومی تحریک کے ہمدردوسپورٹر ڈاکٹر محمد علی انتقال کر گئے

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ قلمکار ،قوم پرست ، بلوچ قومی تحریک کے ہمدردوسپورٹر اور سابق ڈی ایس پی ڈاکٹر محمد علی کوئٹہ میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے۔

فیملی ذرائع کے مطابق نماز جنازہ آج بروز بدھ صبح نو بجے کیچ کے علاقے شاپک ڈانڈل دل ء سر میں ادا کی جائے گی۔

واضع رہے کہ ڈاکٹر محمد علی نے ایک بیوروکریٹ کے طور پر بلوچستان بھر میں ڈی ایس پی کے عہدے پر خدمات سر انجام دیں ۔

وہ نہ صرف ایک بیوروکریٹ رہے بلکہ وہ ایک قلمکار اور قوم پرست انسان بھی تھے جو چاوش بلوچ اور ڈاکٹر ایم اے کے نام سے بلوچستان کی موجودہ سلگتی صورتحال ، حالات حاضرہ،بلوچ تحریک آزادی کے نشیب وفراز،بلوچستان میں فوجی آپریشنز، جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق صورتحال سمیت دیگر موضوعات پر رسائل و جرائد اور آن لائن میگزین میں لکھتے رہے ۔

ڈاکٹر محمد علی نے قومی تحریک پر دو کتابیں اور متعدد مضامین لکھے ہیں۔

ان کے کتابوں میں "پارلیمانی سیاست اور بلوچ جہد آزادی”، اور "بلوچ جہد آزادی ،کامیابیاں اور نئی حکمت عملیاں” شامل ہیں جوکہ ان کے قلمی نام چاوش بلوچ کے نام سے شائع ہوئی ہیں۔

اس کے علاوہ ڈاکٹر ایم اے کے نام سے انہوں نے متعدد مضامین بھی لکھے ہیں۔

ڈاکٹر محمد علی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے بطور ڈی ایس پی بلوچستان بھر میںتعیناتیوں کے دوران بلوچ تحریک آزادی سے منسلک قوتوں کی ہر طرح کی مالی ، رہائشی و اخلاقی مدد کی ہے ۔

ڈاکٹر محمد علی کی ناگہانی وفات سے بلوچ قوم اور بلوچ قومی تحریک ایک قلمکار اورایک ہمدردو سپورٹر سے ہمیشہ کیلئے محروم ہوگیا ہے ۔

Share This Article
Leave a Comment