بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میںلاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے گزشتہ 16 دنوں سے ڈپٹی کمشنر کیچ کے دفتر کے سامنے جاری دھرنا منگل کے روز انتظامیہ کیساتھ کامیاب مزاکرات کے بعد دس دنوں کیلئے مؤخر کردیا گیا۔
دھرناگاہ میں لواحقین کیساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماء صبغت اللہ عبدالحق بلوچ نے کہاکہ آج لاپتہ افراد کے لواحقین اور ضلعی انتظامیہ ڈپٹی کمشنر اسماعیل ابراہیم، اے ڈی سی، ڈی پی او و دیگر کیساتھ مزاکرات ہوا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے لواحقین کیساتھ تحریری معاہدہ کیاہے اور ایک جی آئی ٹی تشکیل دی ہے جسمیں تمام سرکاری ادارے بشمول حساس ادارے شامل ہونگے اور دس دنوں کے دوران دھرناگاہ میں شریک آٹھ لاپتہ افراد کے خاندانوں کو مثبت رزلٹ دیں گے۔
اسی معاہدے کے تحت آج سے دس دنوں تک کیلئے لواحقین کا دھرنا ختم ہوگا اور لواحقین تربت میں موجود رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ انتظامیہ معاہدہ کی پاسداری کرتے ہوئے لاپتہ افراد کے لواحقین کو ان دس دنوں میں مثبت رزلٹ دیں گے اور مطمئن کریں گے۔
انہوں نے مزید کہاکہ کل سے سرکاری جی آئی ٹی کام کا آغاز کرےگی اور کل ںروز بدھ پہلا اجلاس ہوگا۔ جبکہ اس جی آئی ٹی میں لواحقین کی جانب سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماء صبغت اللہ، تربت سول سوسائٹی کے کنوینئر گلزار دوست، لاپتہ مسلم عارف عارف کے والد عارف غلام، لاپتہ جہانزیب کے والد فضل کریم، لاپتہ جان محمد کے بیٹے میران جان محمد، لاپتہ فتح میار کے والد میار بلوچ، بی ایس او پجار کے یاسر بیبگر، معاذ بلوچ، ناکو کریم بھی شامل ہونگے۔