گوگل ٹرانسلیٹ میں 110 نئی زبانوں کا اضافہ،بلوچی بھی شامل

0
44

ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے زبانوں کے ترجمے کی اپنی سروس گوگل ٹرانسلیٹ میں مزید 110 زبانوں کے اضافے کا اعلان کیا ہے جس میں بلوچی بھی شامل ہے ۔

یہ اب تک کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔

کمپنی نے جمعرات کو ایک بلاگ پوسٹ میں ان نئی زبانوں کے اضافے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ گوگل ٹرانسلیٹ زبان کی رکاوٹوں کو توڑتا ہے تاکہ لوگوں کو اپنے ارد گرد کی دنیا سے جڑنے اور بہتر طریقے سے سمجھنے میں مدد مل سکے۔

گوگل نے کہا کہ ہم ہمیشہ جدید ترین ٹیکنالوجیز استعمال کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس ٹول تک رسائی حاصل کر سکیں۔

گوگل نے جن نئی زبانوں کا اضافہ کیا ہے ان میں پنجابی (شاہ مکھی)، بلوچی، دری، افار، کینٹونیز، مینکس اور دیگر زبانیں شامل ہیں۔

پنجابی (شاہ مکھی) کے بارے میں گوگل کا کہنا ہے کہ یہ فارسی-عربی رسم الخط میں لکھی جانے والی پنجابی کی ایک قسم ہے اور یہ پاکستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔

کمپنی کے مطابق نئی شامل کی گئی زبانیں 61 کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ لوگ بولتے ہیں یا یہ دنیا کی تقریباً آٹھ فی صد آبادی کی نمائندگی کرتی ہیں۔

گوگل کا کہنا ہے ان زبانوں کو مختلف مراحل میں استعمال کیا جاتا ہے اور کچھ زبانیں ایسی ہیں جن کے بولنے والوں کی تعداد 10 کروڑ کے لگ بھگ ہے جب کہ کچھ ایسی بھی ہیں جو معدوم ہو رہی ہیں۔ لیکن کچھ لوگ ہیں جو ان کو محفوظ کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

گوگل کے مطابق وہ نئی زبان کو شامل کرتے ہوئے ان زبانوں کی علاقائی تنوع، لہجوں اور املا کے مختلف معیارات پر غور کرتا ہے۔

گوگل ٹرانسلیٹ میں 110 زبانوں کا اضافہ آرٹیفیشل انٹیلی جینس (اے آئی) کے ذریعے ایک ہزار زبانوں کو سپورٹ کرنے کے اس اقدام کا حصہ ہے جس کا اعلان 2022 میں کیا گیا تھا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ہم زبانوں کو بڑھانے کے لیے اے آئی کا استعمال کر رہے ہیں اور ہمارے PaLM 2 لینگوئج ماڈل کی بدولت ہی ہم نے گوگل ٹرانسلیٹ میں 110 نئی زبانوں کو شامل کیا ہے۔

یہ نئی زبانیں آنے والے کچھ دنوں میں گوگل ٹرانسلیٹ کے ویب ورژن اور ایپ کر دستیاب ہوں گی۔

کمپنی نے 2022 میں زیرو-شاٹ مشین ٹرانسلیشن ماڈل کے ذریعے 24 زبانوں کا اضافہ کیا تھا جو 30 کروڑ سے زیادہ لوگ بولتے تھے۔

گوگل کے حالیہ 110 زبانوں کے اضافے کے بعد اب گوگل ٹرانسلیٹ میں دنیا بھر کی 243 زبانوں کی سپورٹ شامل ہو گئی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here