بلوچی زبان کے عظیم شاعر ، محقق ،ماہر لسانیات اور دانشور سید ظہور شاہ ہاشمی کی سد سالہ تقریبات شروع

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچی زبان کے عظیم شاعر ، محقق ،ماہر لسانیات اور دانشور سید ظہور شاہ ہاشمی کی سد سالہ تقریبات کے سلسلے میں سالانہ پروگراموں کا پہلا افتتاحی پروگرام آر سی ڈی کونسل گوادر میں منعقد ہوا۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی بلوچستان کے سابق وزیر اور نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ تھے۔

تقریب سے ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمان بلوچ، صدر آر سی ڈی کونسل گوادر عبدالغنی بلوچ، ڈائریکٹر کلچر داؤد ترین، چیئرمین میونسپل کمیٹی گوادر ماجد جوہر، سید ہاشمی اکیڈمی کے علی عیسیٰ، ماجد سہرابی، جیوز کے کے بی فراق اور دیگر معزز شخصیات نے خطاب کیا۔

مقررین نے کہا کہ کلچر ڈیپارٹمنٹ سید ظہور شاہ ہاشمی کی سو سالہ تقریبات کو بھرپور انداز میں منانے کے لیے پرعزم ہے، چاہے یہ پروگرام گوادر میں ہوں، کوئٹہ میں یا بلوچستان کے دیگر شہروں میں۔

مقررین کا کہنا تھا کہ مکران واحد خطہ ہے جو اپنی علمی، ادبی اور تاریخی شخصیات کو فراموش نہیں کرتا، اور سید ظہور شاہ ہاشمی اس کی روشن مثال ہیں۔

ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمان بلوچ بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سید ظہور شاہ ہاشمی نے فرد کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ادارہ بن کر کام کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں اور ان کی خدمات کو یاد رکھنا اور نئی نسل تک منتقل کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گوادر اور کوئٹہ میں اعلیٰ سطح کے ادبی و ثقافتی پروگرام منعقد کیے جائیں گے، جن میں عوام اور ادبی حلقوں کی آراء کو شامل کیا جائے گا۔

مقررین نے بتایا کہ سید ظہور شاہ ہاشمی کی کتابوں کی اشاعت میں میر عبدالغفور کلمتی کی نمایاں خدمات ہیں۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بھی کتابوں کی اشاعت میں تعاون کیا۔ اسی طرح ماجد سہرابی نے سید ہاشمی اکیڈمی کے لیے جگہ فراہم کی اور بلدیہ گوادر کے فنڈز سے اس کی تعمیر کی گئی۔

تقریب میں بتایا گیا کہ سید ظہور شاہ ہاشمی کی چھ کتابوں پر مشتمل کلیات، ان کا سفرنامہ اور اوستا کی بلوچی کتاب جلد شائع کی جائے گی۔

مزید یہ اعلان بھی کیا گیا کہ دسمبر 2026 تک سید ظہور شاہ ہاشمی کی تمام غیر مطبوعہ کتب کی اشاعت کی ذمہ داری ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے قبول کی ہے۔

مقررین نے کہا کہ سید ظہور شاہ ہاشمی کا سال پورے سال منایا جائے گا، جس کے تحت اسکولوں، اسپورٹس میدانوں اور ادبی محفلوں میں تقریبات منعقد کی جائیں گی۔

گوادر میں قائم اسٹیٹ آف دی آرٹ لائبریری کا بھی ذکر کیا گیا، تاہم افسوس کا اظہار کیا گیا کہ اس لائبریری میں عوامی رجحان کم نظر آ رہا ہے۔

پروگرام کے دوسرے حصے میں مشاعرے کا اہتمام کیا گیا، جس میں گوادر کے نامور شعراء نے اپنا کلام پیش کیا۔

آخری حصے میں محفلِ موسیقی منعقد ہوئی، جس میں بلوچی زبان کے معروف گلوکار خلیل سہرابی اور اصغر حسین نے سید ظہور شاہ ہاشمی کے کلام پیش کر کے حاضرین سے بھرپور داد وصول کی۔

Share This Article