بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے کو نشقلات تمپ کے رہائشی بیوہ عور ت انیسہ بلوچ نے اپنے گھر پر پاکستانی فورسزکی مسلسل حملوں و ہراسانی کیخلاف تربت پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کی ہے ۔
پریس کانفرنس میں ڈرافٹ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنماوسیم سفر نے پڑھ کر سنائی جبکہ اس موقع پر انیسہ بلوچ سمیت دیگر اہلخانہ و رشتہ دار اور سیاسی و سماجی کارکنان بھی موجود تھے ۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وسیم سفر بلوچ کا کہنا تھا کہ ریاستی فورسز مسلسل طور پر رات کی تاریکی میں بیوہ عورت انیسہ بلوچ جو کہ کو نشقلات تمپ کا رہائشی ہیں ، اس کے گھر میں مسلسل ریاستی سیکورٹی فور گھس کر بلوچ در دو چار دیواری کی تقدس کو پامال کرتے ہوئے ہراساں کیا جارہا ہے ۔گھر میں موجود قیمتی اشیاء مال مویشیوں کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔
انہوںنے کہا کہ انیسہ بلوچ کی شوہر عاصم فقیر کو ریاستی فورسز نے 2 فروری 2013 وز تربت سے جبری اغواء کر کے انہیں ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد 26 مئی 2013 کی مسخ شدہ لاش پھینکی گئی۔ سولہ سال کا عرصہ بیت چکا ہے اس بیوہ کو پاکستانی فورسز کی جانب سے مسلسل ہراساں کیا جارہا ہے۔ اسکے علاوہ 12 مارچ 2023 کو اسرار عطاء اللہ جو کہ انیسہ بلوچ کے بھانجے ہیں، جنکا ریاستی سیکورٹی فورسز نے آدھی رات اسکے آبائی علاقے کو نشکلات تمپ میں چھاپہ مار کر انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنا کر جبری لاپتہ کر لئے ہیں جو کہ تاحال لاپتہ ہیں۔
ان کاکہنا تھا کہ ریاستی فورسز کی جانب سے مسلسل امیہ اور انکی فیملی انکو تنگ کیا جارہا ہے جسکی وجہ سے متاثرہ فیملی ذہنی پریشانی میں مبتلا ہو کرا یہ درد غم سے دو چار ہیں۔ بغیر کسی جرائم کی پاداش اور وجوہات کے بغیر گھر میں گھس کر خواتین اور بچوں کو حراساں کر کے زد و کوب کرنا ملکی آئین و قانون کی خلاف ورزی کرنے کے ساتھ ساتھ بلوچ جنگ و ناموس کو پامال کرنے کے متراف ہے۔
انہوںنے مزید کہا کہ 1 جون 2024 ریاستی مقتدر وڈیتھ اسکوارڈ کے لوگوں نے فائر نگ کر کے ہمارے گھر مین گیٹ کو نشانہ بنایا اس کے بعد 19 جون 2024 کی رات 1 بجے کے قریب پاکستانی فورسز کی بھاری نفری نے چاروں اطراف سے گھر کا محاصرہ کر کے گھر کے اندر داخل ہو کر انیسہ بلوچ اور انکی ضعیف والدین جو انتہائی مریض ہے دونوں کو بندوق کے بٹ سے مار کر شدید تشدد کانشانہ بنایا گیا اور انیسہ بلوچ کے سر پر بندوق تھان کر انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی، موبائل فونز اور دیگر قیمتی سامانوں کو اپنے ساتھ لے گئے۔ انیسہ بلوچ کے دو چھوٹے بیٹے ہیں جو ریاستی فورسز کی بربریت کی وجہ سے انتہائی پریشان اور خوفزدہ ہیں۔ بغیر کسی جرم کے ایک بیوہ عورت اور انکے ضعیف العمر والدین کو ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنانا کہاں کا آئین و قانونی عمل ہے۔
وسیم سفر کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ایسے کئی واقعات آئے رونما ہورہے ہیں جہاں پاکستانی فور سز ماورائے عدالت لوگوں کے گھروں میں گھس کر خواتین اور بچوں کو حراساں کئے جار ہے ہیں۔ گاؤں ، دیہاتوں اور دور دراز علاقوں کے لوگ ریاستی فورسز کی بربریت سے انتہائی تنگ آچکے ہیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ شوہر کو بغیر کسی جرم قتل کر کے گھر کو تباہ کرنا اور خاندان کے دیگر افراد کو حراساں کرنا ملکی اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوںنے کہا کہ ہم میڈیا کی توسط سے چیف جسٹس اور بین الا قوامی انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ انیسہ بلوچ کو انصاف دلا کر انکو تحفظ فراہم کیا جائے، پاکستانی فورسز کی ظلم و جبر سے بیوہ انیسہ بلوچ کے ضعیف العمر والدین اور بچے انتہائی پریشان اور خوفزدہ ہیں ہم بلوچ قوم کے باشعور طبقے سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ انیسہ بلوچ اور انکے خاندان کو انصاف دلانے کیلئے آواز اٹھائیں۔ بلوچستان میں ایسے کئی خاندان ہیں جو ریاستی فورسز کے جبر و تشدد کے شکار ہیں۔ اسکے علاوہ ہم یو نائیٹیڈمیشن انسانی حقوق کے علمبرداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں ہونے والے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ریاستی ظلم و جبر کو روکنے کیلئے ایک فیکہ ائنڈنگ کمیشن بیج کر بلوچ قوم کو ریاست کی بد ترین نسل کش پالیسیوں سے تحفظ فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔