پاکستان کاخسارہ بجٹ پیش،دفاعی اخراجات کیلئے 2122 ارب مختص

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 25-2024 کے لیے 6.9 فیصد خسارے کا بجٹ پیش کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں بتایا کہ اگلے مالی سال میں دفاعی اخراجات کے لیے 2112 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جب کہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 1400 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔

بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ نے کہا کہ اگلے مالی سال میں ایف بی آر کے محصولات کی تخمینہ 12970 ارب روپے ہے جو رواں مالی سال کے 38 فیصد زیادہ ہے۔

وفاقی محصولات میں صوبوں کا حصہ 7438 ارب روپے ہو گا۔ اگلے مالی سال میں معاشی ترقی کی شرح 3.6 فیصد رہنے کا امکان ہے جب کہ افراط زر یعنی مہنگائی کی شرح 12 فیصد متوقع ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 839 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جبکہ پینشن کے اخراجات کے لیے 1014 ارب مختص کرنے کی تجویز ہے۔

انھوں نے کہا کہ بجلی و گیس اور دیگر شعبوں میں سبسڈی کے لیے 1363 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان کے مالی سال 2025-2024 کے بجٹ میں اقتصادی ترقی کی شرح 3.6 فی صد رکھی گئی ہے جب کہ مہنگائی کی شرح 12 فی صد تک رکھنے کا ہدف ہے۔

محصولات یعنی ٹیکس کلیکشن کا ہدف 12 ہزار 970 ارب روپے رکھا گیا ہے جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 38 فی صد زیادہ ہے۔ سالانہ چھ لاکھ آمدنی والے افراد پرانکم ٹیکس لاگو نہیں ہو گا۔

سود کی ادائیگیوں کے لیے 9 ہزار 775 ارب روپے جب کہ سبسڈیز کی مد میں 1363 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

توانائی کے لیے 253 ارب روپے، آبی وسائل کے لیے 206 ارب روپے، آئی ٹی سیکٹر: کے لیے 79 ارب روپے، پیداواری سیکٹر بشمول زراعت کے لیے 50 ارب روپے اور ای بائیکس کے لیے چار ارب روپے روپے مختص کیے گئے ہیں۔

قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے احتجاج کیا۔

سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے بجٹ دستاویزات پھاڑ دیں اور شدید نعرے بازی کرتے رہے۔

اس سے قبل اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت نے کئی چیزوں کو مصنوعی طریقوں سے بڑھایا ہے۔

عمر ایوب کا کہنا تھا کہ حکومتی دعوؤں کے باوجود مہنگائی میں کوئی کمی نہیں آ رہی جب کہ کوئی سیکٹر بھی حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہے۔

Share This Article
Leave a Comment