غزہ اسکول پر اسرائیلی حملہ شہریوں کی تکالیف کی ایک خوفناک مثال ہے، گوتریس

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

اقوام متحدہ کے سربراہ نے جمعرات کے روز غزہ میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام اسکول پر اس اسرائیلی حملے کی مذمت کی جس میں37 لوگ ہلاک ہو ئے تھے۔

اسرائیلی فوج کا الزام ہے کہ اسکول میں غزہ کے ایک ہسپتال کی طرز پر حماس کا ایک کمپاؤنڈ موجود تھا۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا کہ "یہ اس قیمت کی ایک اور خوفناک مثال ہے جو عام شہری ادا کر رہے ہیں، جو صرف زندہ رہنے کی کوشش کرنے والے فلسطینی مرد، خواتین اور بچے ادا کر رہے ہیں۔ "

دوجارک نے کہا کہ ” وہ ( گوتریس ) یقیناً اس حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ غزہ میں جو کچھ ہوا ہے اس کا احتساب ہونا چاہیے۔”

اسرائیلی فوج نے جس اسکول کو نشانہ بنایا وہ اقوامِ متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے یو این آر ڈبلیو کے زیرِ انتظام چل رہا تھا اور غزہ جنگ کے متاثرین وہاں پناہ لیے ہوئے تھے۔

اسرائیلی حملے کے بعد دیر البلاح میں واقع الاقصی شہداء ہسپتال میں 30 فلسطینیوں کی لاشیں لائی گئیں۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے اسکول پر حملہ کیا جس کے بارے میں اس نے فوری طور پر ثبوت پیش کیے بغیر دعویٰ کیا کہ حماس اور اسلامی جہاد اپنی کارروائیوں کے لیے اسے پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے ادارے کے مطابق غزہ جنگ کے آغاز سے ہی اس کے زیرِ انتظام چلنے والے اسکول پناہ گاہوں کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

پناہ گزینوں کے اسکول پر حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ کے صدر جو بائیڈن کے اعلیٰ معاونین تین مرحلوں پر مشتمل جنگ بندی کے منصوبے پر پیش رفت کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں موجود ہیں۔

فلسطینی وزارت صحت نے کہا کہ اسرائیلی فورسز نے جمعرات کو مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین میں ایک چھاپے کے دوران تین فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا، جب کہ فوج کا کہنا ہے کہ فوجیوں نے "عسکریت پسندوں کو ختم کر دیا”۔

فلسطینی ہلال احمر کا کہنا ہے کہ اس حملے میں مزید 13 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment