بلوچستان کے علاقے منگچر،خاران ، پنجگور اور کوئٹہ میں فائرنگ و مسلح تصادم کے چار واقعات میں 5 افراد ہلاک ہوگئے ۔
قلات کے علاقے منگچر میں کلوئی اور لانگو قبائل کے درمیان مسلح تصادم کے دوران 2 افراد ہلاک ہو گئے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق منگچر میں کلی گوہر خان ایریا میں لانگو اور کلوئی قبائل کے درمیان مسلح جھڑپ ہوئی جس سے 2 افراد ہلاک ہوگئے۔
اب تک ہلاک افراد کی شناخت سامنے نہیں آسکی۔
دوسری جانب خاران میں شور پارود کے علاقے میں مسلح افراد نے ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکار حمزہ پر حملہ کرکے اسے ہلاک کردیا ہے۔
علاقائی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلح افراد نے ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکار حمزہ کے اسلحہ اور دیگر سامان ضبط کرکے اپنے ساتھ لے گئے ہیں ۔
بتایا جا رہا ہے کہ حمزہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ بلوچوں کی جبری گمشدگیوں اور بلوچ آزادی پسندوں کی شہادت میں براہ راست ملوث تھا۔
اس سے قبل بھی ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکاروں پر حملے ہو چکے ہیں جن کی ذمہ داری بلوچ آزادی پسند تنظیموں نے قبول کی ہے تاہم ابھی تک کسی تنظیم نے حمزہ کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
اسی طرح پنجگور میں گزشتہ شام مسلح افراد نے قلم چوک میں فائرنگ کرکے حمید اللہ ولد اختر نامی شخص کو ہلاک کردیا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ حمید اللہ پہلے ایک مسلح تنظیم میں تھا جس نے بعد میں پاکستانی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور بلوچوں کے قتل اور جبری گمشدگیوں میں براہ راست ملوث رہا ہے۔
حمید اللہ کی ہلاکت کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی، اس سے قبل ایسے واقعات کی ذمہ داری بلوچ مسلح تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔
دریں اثنا کوئٹہ میں نواں کلی کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ایک شخص کو ہلاک کر دیا ۔
حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے ۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔
ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت تاحال سمانے نہیں آسکی ۔