بلوچستان کے علاقے ڈیرہ اللہ یار میں فائرنگ اور تالاب میں ڈوبنے کے حادثے سے 2 بچوں سمیت 3 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ پنجگور سے ایک لاش برآمدہوئی ہے۔
ڈیرہ اللہ یار میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت کرنے پر فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔
منگل کی صبح ڈیرہ اللہ یار کی حدود منی بائی پاس محلہ مراد کالونی میں ایک شخص کو ڈکیتی پر مزاحمت کرنے پر گولیوں سے چھنی کر دیاگیا ۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ 2 نامعلوم مسلح نقاب پوش موٹرسائیکل سوار افراد نے ایک شخص سے موٹر سائیکل چھیننے کی کوشش کے دوران مزاحمت پر غلام محمد ولد محمد عثمان کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔
کہا جارہا ہے کہ غلام محمد ولد محمد عثمان ایس پی جعفرآباد کے اسکارٹ کمانڈو کانسٹیبل تھے۔
دوسری جانب ڈیرہ اللہ یار میں تالاب میں ڈوبنے سے ایک ہی خاندان کے 2بچے ہلاک ہوگئے۔
ڈیر اللہ یار کےقریب بہادر شاہ کے مقام پر 2 بچے پانی کی تالاب میں ڈوب ہلاک ہو گئے۔
دونوں بچوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے بتایا جارہا ہے ۔
بچوں کی شناخت فتح محمد ،طاہر علی کے نام سے ہوئی جن کی عمریں آٹھ سے نو سال کے درمیان ہیں۔
پولیس نے لاشیں سول اسپتال منتقل کر کے ضروری کارروائی کے بعد لاشیں ورثہ کے حوالے کر دیں۔
دریںاثنا پنجگور کے علاقے جلالی خاک سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے ۔
لیویز ذرائع کے مطابق پنجگور کے علاقے خدابادان کے پہاڑی علاقے سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی جسے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
لاش کی شناخت وسیم ولد سبزل ساکن نوک آباد تسپ کے نام سے ہوئی جسے فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا ۔
اس سلسلے میں لیویز فورس نے مزید تفتیش شروع کر دی۔