بلوچستان شاہراہ پر قائم وفاقی وبلوچستان کے اداروں کی چیک پوسٹوں کی زیادتیوں اور ضلع لسبیلہ وحب میں ایرانی تیل کی ترسیل اور کاروبار پر پابندی کے خلاف آل ٹرانسپورٹ یونین اتحاد کے زیر اہتمام گزشتہ روز حب مغربی بائی پاس بھوانی کے مقام سے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی
ریلی میں بلوچستان کے مختلف ٹرانسپورٹ یونین اور ڈرائیورز ،کلینرز اورسمیت ایرانی تیل کے کاروبار سے وابستہ افراد نے ایک بڑی تعداد میں شریک کی ریلی کے شرکا نے اپنے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ ز اٹھا رکھے تھے جن پر باڈر ٹریڈ کے ذریعے کاروبار سمیت ایرانی تیل کی ترسیل کرنے کے مطالبات درج تھے۔
ریلی کے شرکا مغربی بائی پاس بھوانی سے ہوتے ہوئے لسبیلہ پریس کلب حب پہنچے جہاں پر ریلی کے شرکا نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی ۔
اس موقع پر آل ٹرانسپورٹ یونین اتحاد کے رہنماؤں محمد عالم شاہوانی ،عبدالحمید شاہین عمرانی ،سفر خان رخشانی ،عبدالوحید لہڑی ،عطا اللہ ،حبیب اللہ و یگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان کے ٹرانسپورٹرز کو بلوچستان کے شاہراہوں پر قائم بلوچستان و وفاقی اداروں کے چیک پوسٹوں پر ناجائز و بلا وجہ تنگ کر رہے ہیں اب تو نوبت روزگار چھینے تک آپہنچی ہے بلوچستان کے زیادہ تر لوگ ایرانی تیل کے ذریعے روزگار سے منسلک ہیں لیکن وفاقی صوبائی چیک پوسٹوں پر ایک طرف بھاری بھتہ وصول کیا جاتا ہے تو دوسری جانب کاروائی بھی کی جاتی ہے یہ کہاں کا انصاف ہے۔
انھوں نے کہاکہ مکران بیلٹ ،گوادر ،پسنی ،جیونی ،اورماڑہ ،جھاؤ آواران سمیت دیگر علاقوں میں تو پاکستانی پیٹرولیم مصنوعات کے پمپس ہیں اور نہ ہی پیٹرول دستیاب ہے اور نہ ہ وہاں پر صنعتیں قائم ہین بلکہ بلوچستان کے لوگ اپنا گزر بسر ایرانی تیل کے ترسیل سے کرتے ہیں حتیٰ کہ ایرانی تیل کے کاروبار کرنے کیلئے لوگوں نے لاکھوں روپے ادھار اور لون لیئے ہوئے ہیں ایرانی تیل کے کاروبار پر پابندی کے سبب وہ مقروض ہو چکے ہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے رزگار ہو گئے ہیں۔ ٹرانسپورٹرز نے اپنی گاڑیاں کھڑی کردی ہیں جس کی وجہ سے ڈرائیورز ،کلینرز بے روزگار ہونے کے ساتھ ساتھ مکران بیلٹ میں قائم ہوٹل ،ٹائر پنکچر بنانے والے دکانوں میں کام والے لوگوں کی بھی ایک بڑی تعداد بے روزگار ہو چکا ہے جب ٹرانسپورٹرز کی گاڑیاں سڑکوں پر چلتے ہیں تو لوگوں کے روزگار کے مواقع پیدا ہو جاتے ہیں لیکن بلوچستان ووفاقی اداروں کے چیک پوسٹوں کی زیادتیوں کے سبب ٹرانسپورٹرز نے اپنی گاڑیاں کھڑی کردی ہیں ۔
انھوں نے کہاکہ اگر حکومت کو ایرانی تیل پر پابندی عائد کرنا ہے تو باڈر کو ہی بند کردیں ٹرانسپورٹرز باڈر سے ایرانی تیل لوڈ کر کے مختلف چیک پوسٹوں پر لائن کے پیسے دیکر جب لسبیلہ اور حب پہنچے ہیں تو ان کے خلاف پولیس اور سی آئی آئی کاروائی کر کے انکی گاڑیوں سے تیل اتار کر کسٹمز کے حوالے کردیتا ہے جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹرز کو لاکھوں کروڑوں روپے کا نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
انھوں نے کہاکہ اگر بلوچستان کے شاہراہ پرقائم وفاقی و بلوچستان کے اداروں کے چیک پوسٹوں اور حب ولسبیلہ پولیس کی زیادتیاں تھم نہ سکیں تو احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور 23مئی کو آل ترانسپورٹ یونین اتحاد کی جانب سے بلوچستان بھر میں تمام ٹرانسپورٹرز اپنی گاڑیاں کھڑی کر کے پہیہ جام ہڑتال کرینگے، 23مئی کو مسافر بردار گاڑیاں ،لوڈ ر گاڑیاں سڑکوں پر نہیں لائینگے۔
انھوں نے پاکستانی وزیر اعظم وکٹھ پتلی وزیر اعلیٰ بلوچستان سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے بلوچستان شاہرائوں وفاقی وبلوچستان اداروں کے قائم چیک پوسٹوں کی زیادتیوں کا نوٹس لینے اور ایرانی تیل کے کاروبار کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔