بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گھرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں گوادر میں موبائل فون ٹاور،مشکے میں تعمیراتی کمپنی اور آواران میں فوج پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں نے 19 مئی کی رات ساڑھے تین بجے گوادر کے سیاہ عمر وارڈ میں واقع چینی کمپنی زونگ موبائل فون ٹاور پر حملہ کرکے تمام مشینریز کو نزرآتش کرکے تباہ کردیا۔
انہوںنے کہا کہ ایک اور حملے میں سرمچاروں نے اٹارہ اور انیس مئی کی درمیانی رات نو بجے مشکے کے علاقے جیبری میں فرنٹئیر ورکس آرکنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے سائیٹ پر حملہ کیاہے، حملے میں تعمیراتی کمپنی کے گاڑی، ڈمپر، لوڈر اور دوسرے مشینزیر کو فائرنگ کرکے نقصان پہنچایا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ہمارے بارہا تنبیہ کرنے کے باجود لیویز فورس سامراجی استحصالی منصوبوں میں قابض ریاست کا ساتھ دے رہی ہے۔ ہم نے بلوچ ہونے کی بنیاد پر لیویز کو جانی نقصان دینے سے گریز کیاہے، اگر اب کسی نے بھی قابض ریاست کے کسی بھی کام میں ساتھ دینے یا سہولت کاری کی کوشش کی تو وہ اپنے جان و مال کے زمہ دار خود ہونگے۔
میجر گھرام بلوچ کہا کہ سرمچاروں نے آواران کے علاقے زرانکول پیراندر میں قائم دشمن پاکستانی فوج کے چوکی پر حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک اور ایک کو زخمی کیاہے۔
انہوںنے کہا کہ کل شام چھ بجے بی ایل ایف کے اسنائپر شوٹرز نے قابض پاکستانی فوج کے ایک اہلکار کو نشانہ بنا کر ہلاک کیاہے اور بعد میں خودکار ہتھیاروں سے چوکی پر حملہ کیاہے، حملے میں دشمن کا ایک اہلکار زخمی ہوا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ ان حملوں کی زمہ داری قبول کرتی ہے اور مقبوضہ بلوچستان کی آزادی تک قابض دشمن فورسز و انکے سامراجی منصوبوں پر حملے جاری رہیں گے۔