بحرہ بلوچ میں حکومتی سر پرستی میں سمندری حیات کی نسل کشی کئی دہائیوں سے جاری ہے ۔
ساحلی شہرپسنی کے ماہیگیروں نے بحرہ بلوچ میں بڑھتی ہوئی غیر قانونی ٹرالنگ کیخلاف چربندن سے لیکر پسنی اور کلمت کے ماہی گیروں کا جرگہ طلب کرلیا ہے۔
اس سلسلے میں تمام ماہی گیروں کوکل 19 مئی بروز اتوار شام پانچ بجے جرگے میں اپنی شمولیت یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے ۔
ماہی گیروں کا کہنا تھا کہ ایک طرف ٹرالر مافیا نے غریب ماہی گیروں کے منہ سی نوالہ چھین لیا ہے، دوسری طرف پسنی کی ایک نام نہاد سیاسی ماہی گیر تنظیم غریب ماہی گیروں کے روزگار پر پابندی لگا رہی ہے اور انہیں رات کے وقت سمندر جانے پر پابندی عائد کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے غیر مقامی ماہی گیروں پر پابندی لگائی گئی جس پر تمام لوگ بحیثیت علاقائی کاروباری حضرات اپنے ماہی گیروں کے شانہ بشانہ رہے تاکہ غیر مقامیوں کے جانے سے ہمارے ماہیگیر روزگار کرسکیں لیکن اب یہ خود ساختہ ماہیگیر گروہ ہمارے مقامی غریب ماہی گیروں کے روزگار کا دشمن بنا ہوا ہے، یہ گروہ مقامی ماہیگیروں کے روزگار پر پابندی لگا کر کس کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقامی غریب ماہیگیر دو وقت کی روٹی کے محتاج بن چکے ہیں لیکن یہ لوگ انہی ماہی گیروں کے نام پر سیاست کرکے خود عیش کی زندگی گزار رہے ہیں لہٰذا تحصیل پسنی کے تمام مقامی ماہیگیر 19 مئی بروز اتوار شام پانچ بجے آجائیں اور اپنی یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور ٹرالر مافیا کے آلہ کاروں سے اپنی جان چھڑائیں جو آئے روز اپنی ہڑتالوں کے ذریعے غریب ماہی گیروں کے روزگار کو تباہ کررہے ہیں۔