بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں کراچی آرٹس کونسل کے زیراہتمام جاری پاکستان لٹریری فیسٹیول سے خطاب کرتے ہوئے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہم بات چیت کرنے کیلئے تیار ہیں، مگر کس سے بات کی جائے؟ وہ تشدد کے ساتھ ملک توڑنا چاہتے ہیں۔
سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ سارے سسٹم ہم نے خود تباہ کیے، بلوچستان کے لوگ خود اس کے ذمہ دار ہیں، سارے مسائل کی جڑ پی ایس ڈی پی کی کتاب ہے۔
ان کہا کہنا تھا کہ لوگوں کو بسوں سے اتار کر مارا جاتا ہے کونسی بلوچ پشتون اسلامی روایت اس بات کی اجازت دیتی ہے، کسی ایک شخص سے بات کرنے سے بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
انہوںنے کہا کہ خواہش تھی کہ سارا وقت آرٹس کونسل میں شرکت کرتا، لیکن مصروفیات کی وجہ سے نہیں آسکا۔
انہوںنے کہا کہ جس شخص نے ماہرہ خان سے بدسلوکی کی اس کی مذمت کرتا ہوں، اس پر ماہرہ خان سے معافی کا طلبگار بھی ہوں۔
کٹھ پتلی وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں نوکریاں بکتی ہیں، اب میں ایسا نہیں ہونے دوں گا، سب کو پتا ہے نوکریاں بکتی ہیں لیکن کوئی آگے آنے کو تیار نہیں ہے۔ نوکریوں کی فروخت میں جو بھی ملوث ہوگا اس کو عبرتناک سزا دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کا کام ہے اگر کوئی لاپتا ہو تو اس کو رپورٹ کیا جائے، کیسے تعین کیا جائے گا کہ جو لاپتا ہو رہے ہیں ان کے پیچھے کون ہے۔ فاصلوں کو ڈائیلاگ اور گڈ گورننس سے کم کیا جا سکتا ہے۔
ریاست مخالف عناصر کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ کون سی بلوچ، پشتون اور اسلامی روایت لوگوں کو بسوں سے اتار کر قتل کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ہم بات چیت کرنے کیلئے تیار ہیں، مگر کس سے بات کی جائے؟ وہ تشدد کے ساتھ ملک توڑنا چاہتے ہیں۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ نوجوانوں کو گلے لگا کر ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں گے، بلوچستان کی پہلی یوتھ پالیسی بنانے جا رہے ہیں۔