بلوچستان کے علاقے قلات میں ڈگری کالج میں قلات اسٹوڈنٹس فورم کی جانب سے بک اسٹال لگایا گیا، تاہم انتظامیہ نے ٹیبل فراہم کرنے سے انکار کردیا، جس پر طلبہ نے احتجاج شروع کردیا۔
اس حوالے سے قلات اسٹوڈنٹس فورم کی جانب سے کہا گیا کہ تعلیم اور خواندگی کے فروغ کے لیے فورم کی کوششوں کے باوجود، انتظامیہ کی جانب سے حمایت سے انکار نے بلوچ طلباءکے ساتھ امتیازی سلوک کے خدشات کو جنم دیا ہے۔
طلبا کا احتجاج یکساں مواقع اور بلوچ آوازوں کو دبانے کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے، یہ واقعہ بلوچستان کے تعلیمی شعبے کی جاری جدوجہد اور زیادہ تعاون اور شمولیت کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
اسلسلے میں نیشنل پارٹی کی جانب سے جاری کردہ مذمتی بیان میں کہا گیا کہ بروز ہفتہ ’قلات اسٹوڈنٹس فورم کی جانب سے ڈگری کالج قلات میں زیر تعلیم طلبا و طالبات کےلئے بک اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ کالج انتظامیہ کی طرف سے کتب رکھنے کیلئے ٹیبل تک مہیا نہ کی گئی۔
بیان میں کہا گیا کہ قلات اسٹوڈنٹس فورم اپنے منشور پر پورا اترتے ہوئے، آئینی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے کتب بینی کو فروغ دیتے ہوئے اپنی کتاب بغیر ٹیبلز کے زمین پر لگائے جس میں کالج انتظامیہ نے طلبا و طالبات کو زبردستی کلاسز میں رکھا، طلبا و طالبات کو بک اسٹالز پر جانے سے روکا۔
ان کاکہنا تھا کہ بک اسٹال کو سبوتاژ کرنے کےلئے مختلف حربے استعمال کیے۔ کالج انتظامیہ کی طرف سے اس طرح کے رویے اور تعلیم دشمن پالیسیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرکے قلات کے نوجوانوں کو شعور اور آگاہی حاصل کرنے سے نہیں روکا جاسکتا۔