بلوچستان میںطوبھر میں فانی بارش وسیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔دالبندین سے سیلابی ریلے سے ایک شخص کی لاش برآمد ہونے کے بعدہلاکتوں کی تعداد 18 تک پہنچ گئی ہے۔
پولیس کے مطابق دالبندین میں دریا بولو سے ایک شخص کی نعش کو شہریوں نے نکال دیا۔
نعش کو شہریوں نے پرنس فہد ہسپتال منتقل کردیا ۔
نعش کی شناخت نہ ہوسکی ۔
شناخت کے لئے پرنس فہد ہسپتال میں موجود ہے۔
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں جاری موسلا دھار طوفانی بارشوں کے باعث آسمانی بجلی چھتیں گرنے اور سیلابی ریلوں کے باعث خواتین سمیت ہلاکتوںکی تعداد18 تک پہنچ گئی ہے ۔ جبکہ 9سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
بلوچستان میں گزشتہ 7روز سے جاری طوفانی بارشوں کے مختلف اسپیل کے دوران موسلادھار بارشوں ژالہ باری اور سیلاب کے دوران آسمانی بجلی اور چھتیں گرنے سے 10افراد ہلاک جبکہ 9افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ گزشتہ روز بارشوں کے دوسرے اسپیل کے دوران چمن میں سیلابی ریلے میں گاڑی پھنسنے اور دوسرے واقعے میں ایک بچہ ریلے میں بہہ جانے سے 7افراد جاں بحق ہوگئے جن میں 4خواتین اور 2بچے شامل ہیں ۔
اسی طرح دالبندین میں سیلابی ریلے سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے ۔
بلوچستان بھر میں آسمانی بجلی ، چھتوں کے گرنے سمیت سیلابی ریلے میں بہہ جانے سے ہلاکتوں کی تعداد 18ہوگئی اور 9افراد زخمی ہیں جبکہ محکمہ موسمیات کی جانب سے مزید بارشوں کے جاری رہنے کی پیشنگوئی کی ہے۔