فیض آباد دھرنا کیس میں فیض حمید کو کلین چٹ، شہباز شریف کی حکومت ذمہ دار قرار

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستان میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے جنکشن فیض آباد کے مقام پر 2017 میں تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے دھرنے اور اس دوران پیش آنے واقعات پر سپریم کورٹ کے حکم پر بنائے جانے والے انکوائری کمیشن نے رپورٹ تیار کر کے وفاقی حکومت کو ارسال کر دی ہے۔

فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں ملک کی طاقت ور خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جینس (آئی ایس آئی) کے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو دھرنا کرانے کے الزامات سے کلین چٹ دے دی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات میں فیض آباد دھرنے کے پیچھے کسی ادارے کے کردار کا سراغ نہیں ملا۔

یہ کمیشن سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیض آباد دھرنا کیس میں فیصلے پر عدم عمل در آمد کے بعد اس دھرنے کے انعقاد اور ذمہ داران کے تعین کے لیے قائم کیا گیا تھا جس میں پولیس کے سابق انسپکٹر جنرل (آئی جی) اختر علی شاہ ، سابق آئی جی طاہر عالم اور خوشحال خان شامل تھے۔

انکوائری کمیشن نے لیفٹننٹ جنرل فیض حمید اور دھرنا ختم ہونے پر مظاہرین میں پیسے تقسیم کرتے ہوئے ویڈیوز میں دکھائی دینے والے ڈی جی رینجرز پنجاب میجر جنرل نوید اظہر حیات کو الزامات میں کلین چٹ دے دی ہے۔

رپورٹ میں قرار دیا گیا ہے کہ لیفٹننٹ جنرل فیض حمید نے وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرِ صدارت میٹنگ میں دی گئی ہدایات پر ہی عمل کیا۔

کمیشن کے مطابق 22 نومبر 2017 کی میٹنگ کے منٹس سے بھی یہی تصدیق ہوئی۔ دھرنے سے نمٹنے کے تمام فیصلوں کی ذمہ داری سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے قبول کی ہے۔

کمیشن نے دھرنے کی ذمہ داری اس وقت کی پنجاب میں قائم شہباز شریف وزارتِ اعلیٰ میں قائم مسلم لیگ (ن) کی حکومت پر عائد کی ہے۔

انکوائری کمیشن کا رپورٹ میں کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کی طرف سے اسلام آباد کی جانب مارچ کو آنے دینے کی اجازت دینا نامناسب عمل تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ شہباز شریف، احسن اقبال، زاہد حامد ، آفتاب سلطان سے بھی ایجنسیوں کے کردار کا پوچھا گیا۔ تمام متعلقہ گواہان نے کسی بھی ادارے یا شخصیت کے کردار سے انکار کیا۔ لہٰذا کمیشن کے لیے کسی بھی ایجنسی یا شخصیت کو دھرنے سے جوڑنا ممکن نہیں۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت ابتدائی سطح پر دھرنے کو روک سکتی تھی۔ صوبائی حکومت کا ٹی ایل پی کو اسلام آباد تک مارچ کی اجازت کا فیصلہ نامناسب تھا۔

کمیشن نے اس دھرنے سے قبل پنجاب حکومت کے کردار پر سوال اٹھایا کہ وہ اس دھرنے کے شرکا کو اسلام آباد آنے سے روک سکتی تھی۔ لیکن صوبائی حکومت نے ووٹ بینک بچانے کے لیے مظاہرین کے خلاف کارروائی نہیں کی۔ جو قابل تعریف نہیں ہے۔ یہ ذمہ داری سے انحراف اور مس کنڈکٹ ہے لہٰذا قصورواروں کے خلاف کاروائی کی جائے۔

Share This Article
Leave a Comment