بلوچستان کے ٹرانسپورٹرز کا چیک پوسٹیں ہٹانے کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان بس ٹرانسپورٹ فیڈریشن نے کوئٹہ تفتان روٹ پر قائم چیک پوسٹوں کو ہٹانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

چیئرمین مشترکہ بلوچستان بس ٹرانسپورٹ فیڈریشن محمود خان بادینی نے کہا ہے کہ بلوچستان کی تمام نیشنل ہائی ویز خصوصاً کوئٹہ تفتان روٹ این 40 پر درجنوں اینٹی سمگلنگ کے نام سے مختلف اداروں کی چیک پوسٹوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کو بار بار چیکنگ کے نام پرگھنٹوں روکا جاتا ہے ، یہ اذیت ناک سلسلہ عرصہ درازسے جاری تھی کہ سابق حکمرانوں نے آٹا چینی کی سمگلنگ روکنے کیلئے مزید نصف درجن جوائنٹ چیک پوسٹوں کو بارڈر زیرو پوائنٹ کے این چالیس پر وقتی طور کیلئے بنائی تھی جوتا حال قائم ہیں جو متعلقہ علاقوں کے عوام پبلک بس ٹرانسپورٹ کیلئے اذیت کا سبب تھے اور ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ موجودہ وفاقی اور بلوچستان حکومت وزیراعلیٰ بلوچستان کو سابقہ ادوار میں وزارت داخلہ کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں اب ہمیں ان جگہ جگہ قائم اینٹی سمگلنگ چیک پوسٹوں سے نجات دلائیں ۔ اینٹی سمگلنگ جن کی ذمہ داری ہیں ان فورسز کو نیشنل ہائی وے این چالیس سے ہٹاکر ان کو خطر ناک مواد ممنوعہ ایشیا کی سمگلنگ روکنے کے لیے بارڈرز زیرو پوائنٹس پر منتقل کریں اور نیشنل ہائی وے پر صرف ایک چیک پوسٹ کافی ہے ایک روٹ کی ایک گاڑی کوکسٹم ایکٹ کے بناءپر ایک سے زیادہ چیک پوسٹوں پربار بار روکھنا کیاانہی اداروں کے پچھلے تمام چیک پوسٹوں پر عدم اعتماد نہیں۔

انہوںنے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان ٹرانسپورٹرز کی اس دیرینہ مطالبہ اورجائز بیانیہ پر کہ ایک روٹ کی ایک گاڑی کوکسٹم والے اسکے دورانیہ سفر میں اینٹی سمگلنگ کے بہانہ میں صرف ایک بار چیک کریں تاکہ بلاوجہ دیگرچیک پوسٹوں پر ان ٹرانسپورٹرزکوتنگ کر نے کاسلسلہ ختم کیاجائے ۔ پرچون سامان اشیاءخوردونوش گریلو روزمرہ کے غیر ممنوعہ ایشیا ءلانےوالی تفتان سے آنے والی گاڑیوں کو بطور روزگار اپنی مدد آپ ریلف دیا جائے۔

Share This Article
Leave a Comment