بلوچستان کے علاقے پسنی ، حب اور تربت میں ٹریفک حادثات وکلہاڑی کے حملے کے تین حادثات و واقعات سے 4 افراد ہلاک ہوگئے ۔
ساحلی شہر پسنی میں کنڈاسول کے قریب کار گاڑی اور گیس لیجانے والی بوزر میں تصادم کے نتیجے میں 4 افراد زخمی ہو گئے۔
زخمیوں کو تشویشناک حالت میں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے لیے جی ڈی اے ہسپتال گوادر منتقل کر دیا گیا۔
جہاں ایک خاتون اور ایک بچی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والی خاتون اور بچی تحصیلدار حفیظ سردار عبدالرحمن گورگیچ کی زوجہ اور صاحبزادی ہیں۔
دوسری جانب حب میں ایرانی تیل بردار ایک اور گاڑی حادثے کا شکار ہوگئی جس سے ڈارئیور جھلس کر ہلاک ہو گیا جبکہ کلینر کو تشویش ناک حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا ۔
حادثہ بیلہ شہر کے قریب جام یوسف آباد کے علاقے میں کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر پیش آیا۔
ذرائع کے مطابق ایرانی تیل بردار سرف گاڑی ٹرک سے ٹکرا گئی۔
حادثے کی اطلاع ملنے پر انتظامیہ وپولیس افسران فائر بریگیڈ گاڑی سمیت علاقائی مقامی افراد وقوعہ پر پہنچ گئے اور آگ پر قابو پانے کی کوشش کی گئی لیکن آگ اسقدر شدید تھی کہ تیل سے بھری گاڑی جل کر خاکستر ہوگئی اور ڈرائیور کی سوختہ نعش گاڑی سے نکالی جاسکی۔
واضح رہے کہ 5روز قبل حب شہر کے قریب گڈانی موڑ کے مقام پر ایرانی تیل بردار کار اور موٹر سائیکل کے مابین تصادم کے نتیجے میں 4قیمتی انسانی جانیں جھلس کر دم توڑ گئیں لیکن پولیس سمیت دیگر ادارے کوسٹ گارڈ زکسٹم جو کہ رشوت اور بھتہ کے عوض مختلف چھوٹی اوربڑی گاڑیوں میں ایرانی تیل کی غیر محفوظ نقل وحمل کی اجازت دیئے ہوتے ہیں سمیت پولیس نے کوئی ٹھوس اقدامات اٹھانے کے بجائے پولیس کے محض زیر دفعہ 174ت پ حادثاتی موت کا پرچہ کاٹ کر کیس داخل دفتر کردیا اور پھر سے قومی شاہراہ پر ایرانی تیل کی غیر محفوظ نقل وعمل سے پہلے سے مقرر رشوت کے ریٹ بڑھا کر کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے ۔
دریںاثنا تربت میں دو افراد کے مابین جھگڑا ہوا۔جہاں ایک نے کلہاڑی سے وار کرکے دوسرے کو قتل کردیا۔
پولیس نے ملزم کو گوفتار کرکے مقتول کی نعش کو ہسپتال منتقل کردیا۔
اعجاز اور اصغر نامی دو افراد کے مابین جھگڑا ہوا جسکے نتیجے میں اعجاز کے ہاتھوں اصغر مبینہ طور پر قتل ہوگیا۔