بلوچستان بھر میں ٹریفک ،فائرنگ ،ڈکیتی وخودکشی کے مختلف حادثات وواقعات سے 6 افراد ہلاک ، جبکہ 3 کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
بلوچستان کے علاقے سنجاوی میں گاڑی کھائی میں گرنے سے 3 افراد ہلاک ہوگئے۔
سنجاوی کے علاوہ ماندہ ٹک کے مقام پر گاڑی کو موڑ کاٹتے ہوئے حادثہ پیش آیا اور وہ گہری کھائی میں جاگری۔
کھائی میں گرنے کی وجہ سے گاڑی مکمل تباہ ہوگئی جبکہ اس میں سوار6 میں سے 3 افراد موقع پرہلاک اور 3 زخمی ہوئے جنہیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
لیویز حکام کے مطابق وقوعہ پر ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے اور زخمیوں کی حالت کو ڈاکٹرز نے تشویشناک قرار دیا ہے۔
دوسری جانب کوئٹہ میں دوران ڈکیتی ایک شخص کا ہلاک ہوگیا۔
کوئٹہ کے علاقے سرہ غڑگئی میں دوران ڈکیتی فائرنگ سے قتل نوجوان کے ورثا نے زرغون روڈ پر احتجاج میت رکھ کر زرغون روڈ بند کردیا۔
مظاہرین کے مطابق ڈکیتوں نے عزیز اللہ ولد سیف اللہ درانی عمر 30 سال سکنہ خروٹ آباد کومار کر گاڑی چوری کرکے لے گئے ہیں۔
مظاہرین نے بلوچستان حکومت سے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
علاوہ ازیں حب کے شاہ نورانی کے علاقے کوہان میں گھر میں موجود جاوید مینگل نامی شخص اپنی بندوق کی صفائی کے دوران اتفاقیہ گولی لگنے کے نتیجے میں ہلاک ہوگیا۔
متوفی ساکران کے صحافی صحافی عبدالستار مینگل اور سیاسی و سماجی شخصیت محمدیونس مینگل کے کزن تھے۔
اسی طرح ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میناز میں محمد نور ولد مرحوم حاجی زرین نامی شخص نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر گلے میں پھندہ ڈال کر خودکشی کرلی۔
واضع رہے کہ اسی روز بلیدہ کے جہانزیب نامی ایک رہائشی جو اقدام قتل کےکیس میںڈسٹرکٹ جیل تربت میں قید تھے نے بھی گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کرلی تھی۔