بلوچستان میں ٹریفک اور کرنٹ لگنے کے دو حادثات وواقعات سے بچہ سمیت 3 افراد ہلاک ہوگئے۔
پشین میں گانگلزئی روڈ پر دو موٹر سائیکلوں میںتصادم سے 2 افراد ہلاک جبکہ 2زخمی ہوگئے۔
لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔
دوسری جانب نصیرآباد کے گوٹھ حاجی خان جتوئی کے رہائشی آچر مغیری کے 14 سالہ بیٹے فرحان بجلی کا کرنٹ لگنے سے جان کی بازی ہار گیا۔
نوجوان نے گھر کے باہر پول سے لٹکتی ہوئی 11 ہزار وولٹیج کی تاروں کو چھولیا، جس کے باعث کرنٹ لگنے سے بچہ ہلاک ہوگیا۔
ورثا نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کی تاریں گزشتہ 4 سال سے لٹک رہی ہیں، جس پر واپڈا حکام کو دراخواستیں دیتے رہے ہیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی، جس کے بعد یہ سانحہ رونما ہوا۔
واضح رہے کہ نصیرآباد کے کئی علاقوں میں اس طرح کے 11ہزار والٹیج کی ننگی تاریں زمین پر لٹکی پڑی ہیں۔
واقعے پر بچے کے ورثا نے واپڈا حکام کی غفلت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے تاروں کی مرمت کرکے انہیں معاوضہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔