جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، شاہ علی بگٹی، نذیر احمد لہڑی، فرید خان اچکزئی، نعمت اللہ کاکڑ ،گل جان کاکڑ اور صاحب جان کرد نے اپنے ایک مشترکہ مذمتی بیان میں کہاہے کہ فروری 2024 کا مہینہ گزرنے کے باوجود جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کرام اور ملازمین اب تک دسمبر 2023 اور جنوری 2024 کی تنخواہوں اور پنشنزرز کو پنشنرز جبکہ ریسرچ سینٹرز کے ملازمین کو تو اعلان شدہ 35 فیصد و ہاس ریکوزیشن سمیت جامعہ کے تمام اساتذہ اور ملازمین کو نومبر 2023ئکی تنخواہ اور ڈی ارے اے کی بقایاجات اور معذور ملازمین کو معذوری الاؤنسز کی ادائیگی سے محروم رکھا گیا ہے جبکہ سابقہ نااہل مسلط وائس چانسلر نے بڑی ڈھٹائی سے جاتے جاتے بےشمار نئے افراد کو غیر قانونی طور پر اور اقربا پروری کی بنیاد پر تعینات کردیئے اور اپنے چہیتے ریٹائرڈ آفیسر کو غیر قانونی طور پر مزید ایکسٹینشن دیا جس سے جامعہ کہ موجودہ مالی بحران پر مزید منفی اثرات مرتب ہونگے ۔جبکہ ایک سال سے کئی افراد کنٹریکٹ پر تعینات تھے لیکن اس کو نظرانداز کر دیا گیا۔
دریں اثنا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے نمائندہ وفد نےب شاہ علی بگٹی، نذیر احمد لہڑی کی سربراہی میں موجودہ ایکٹنگ وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر، رجسٹرار اور ایچ ای سی اسلام آباد سے آئی ہوئی ڈی جی فنانس ثمینہ درانی سے ملاقات کی اور انہیں جامعہ کے اساتذہ اور ملازمین کو تنخواہوں کی عدم فراہمی فوت شدہ ملازمین کے بچوں کی تعیناتی میں تاخیر، حالیہ غیر قانونی تعیناتیوں اور دیگر مسائل سے آگاہ کیا اور پرزور مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ان تمام آرذڈرز کو منسوخ کرکے سابقہ نااہل مسلط وائس چانسلر کے خلاف انکوائری کریں۔
بیان میں اس امر پر سخت افسوس کا اظہار کیا کہ بدقسمتی سے ابھی تک نہ مرکزی وبلوچستان حکومت و ایچ ای سی اور نہ گورنر بلوچستان نے اساتذہ کرام و ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنز کی ادائیگی کے لئےاب تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جو کہ قابل مذمت اور لمحہ فکر ہے۔
بیان میں مرکزی،بلوچستان حکومت، ایچ ای سی سے مطالبہ کیا تنخواہوں کےلئے فنڈز کا فورا اجرا کریں بصورت دیگر مارچ میں یونیورسٹی کے کھلنے کے بعد جوائنٹ ایکشن کمیٹی سخت احتجاج شروع کرنے پر مجبور ہوگی، جس کی تمام تر ذمہ داری مرکزی و بلوچستان حکومت، گورنربلوچستان اور یونیورسٹی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔