بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں بولان اور پنجگور حملوں میں پاکستانی فوج کے 6 اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے بولان اور پنجگور میں قابض پاکستانی فوج کو دو مختلف حملوں میں نشانہ بنایا، جن میں دشمن فوج کے چھ اہلکار ہلاک ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ قابض پاکستانی فوج گذشتہ سات روز سے بولان و اس سے متصل علاقوں میں فوجی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہیں، جس میں بزدل دشمن فوج عام آبادیوں پر توپ خانے اور مارٹرز سے گولہ باری کررہی ہے جبکہ خواتین و بچوں کو اپنے قبضے میں رکھ کر بطور انسانی ڈھال استعمال کررہی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے سنجاول کے مقام پر جارحیت میں مصروف دشمن فوج کو گذشتہ روز مغرب کے وقت ایک حملے میں نشانہ بنایا، بی ایل اے اسنائپر نے ایک دشمن اہلکار کو ہلاک کرکے حملے کا آغاز کیا۔ سرمچاروں نے حملے میں خودکار و بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں مزید تین دشمن اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ دشمن فوج کے خیموں میں آگ بھڑک اٹھی جس سے ان کا ساز و سامان بھی خاکستر ہوگیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے 23 فروری کی شب پنجگور میں رخشان ندی، بکرا منڈی کے مقام پر قائم قابض پاکستانی فوج کے کیمپ کے حفاظتی چوکی پر گرنیڈ لانچر سے گولے داغ کر نشانہ بنایا، دھماکوں کے نتیجے میں چوکی پر موجود دو اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے۔
جیئند بلوچ نے مزید کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ ہم اس عزم کو دہراتے ہیں کہ قابض پاکستانی فوج کی بلوچستان سے مکمل انخلاء تک ہماری کارروائیاں جاری رہینگی۔