Home انٹرویوز غزہ میں جاری جنگ سے وسیع پیمانے پر قحط کا خدشہ

غزہ میں جاری جنگ سے وسیع پیمانے پر قحط کا خدشہ

0
205

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ جلد بند نہ ہوئی تو غزہ کی پٹی میں لوگوں کو بڑے پیمانے پر قحط کا سامنا ہو سکتا ہے۔

عالمی ادارے کے انسانی ہمدردی کے متعدد عہدیداروں نے کہا ہے کہ “جنگ کو روکنے کے لیے اگر کچھ نہیں کیا گیا تو خدشہ ہے کہ غزہ میں بڑے پیمانے پر قحط یقینی ہو گا۔”

اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے دفتر میں کوآرڈینیشن ڈویژن کے ڈائریکٹر رمیش راجا سنگھم نے کہا ہے کہ اگر جنگ بندی نہیں ہوتی تو مزید بہت سے لوگ متاثر ہوں گے۔

رمیش راجا سنگھم نے ان خیالات کا اظہار اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے کیا جو الجزائر، گیانا، سلووینیا اور سوئٹزرلینڈ کی درخواست پر بلایا گیا تھا۔

خیال رہے کہ عالمی سطح پر ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ جنگ میں بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

راجا سنگھم نے کہا کہ غزہ میں آبادی کا 25 فی صد یعنی تقریباً پانچ لاکھ 76 ہزار افراد قحط کے دہانے پر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ عملی طور پر پوری آبادی زندہ رہنے کے لیے ناکافی انسانی خوراک کی امداد پر انحصار کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ “بدقسمتی سے، جتنی بھیانک تصویر آج ہم دیکھ رہے ہیں، اس میں مزید بگاڑ کا امکان موجود ہے۔”

اقوامِ متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن ک اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل موریزیو مارٹینا نے بتایا کہ جنگ سے خوراک کی فراہمی کا پورا سلسلہ متاثر ہوا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ کاشت کاروں کو اسرائیل نے اپنی زمین خالی کرنے پر مجبور کیا۔ گولہ باری کی وجہ سے کاشت کار ان علاقوں سے نکل گئے جس کی وجہ سے فصلیں تباہ ہو گئیں۔ کاشت کار گولہ باری سے فرار ہو گئے جس سے فصلیں تباہ ہوئیں۔ مویشی اور مرغیاں بھوک سے مر رہے ہیں یا بم دھماکوں میں مارے جا رہے ہیں۔ ماہی گیری ممنوع ہے اور زمینی پانی آلودہ ہے۔

مارٹینا نے کہا کہ ممکنہ صورتِ حال میں، زرعی پیداوار شمال میں مئی 2024 تک ختم جائے گی۔ “ہم پہلے ہی اس تباہی کو دیکھ رہے ہیں۔”

پانچ ماہ سے جاری جنگ میں غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اب تک تقریباً 30 ہزار لوگ ہلاک اور 70 ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔

اسرائیل اور حماس کے وفود قطر کی ثالثی میں ہونے والی ایک کوشش کے تحت عارضی جنگ بندی پر غور کر رہے ہیں۔

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here