بلوچستان یونیورسٹی پرغیر قانونی طور پر مسلط وائس چانسلر کی سبکدوشی پر اظہار تشکر

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، شاہ علی بگٹی، نذیر احمد لہڑی، فریدخان اچکزئی، نعمت اللہ کاکڑ اور گل جان کاکڑ نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ جامعہ بلوچستان پر غیر قانونی طور پر مسلط وائس چانسلر ڈاکٹر شفیق الرحمان کو اپنے عہدے سے سبکدوش کر دیا گیا جس نے اپنے غیر قانونی تعیناتی کے چار سالہ دور میں جامعہ بلوچستان کو سخت مالی و انتظامی اور تعلیمی بحران میں دھکیلا اور جامعہ کے اساتذہ کرام اور ملازمین کے جائز حقوق پر ڈاکہ ڈالا۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ 24 فروری 2020 کو غیر قانونی طریقے اور وائس چانسلر کی تعیناتی کےلئے مطلوبہ شرائط کو مکمل کئے بغیر اور سرج کمیٹی کی سفارشات کے بغیر سفارش کی بنیاد پر غیرقانونی طورپر داکٹر شفیق الرحمن کو جامعہ بلوچستان پر زبردستی مسلط کیا گیا جس کے خلاف اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے عدالت عالیہ میں ایک آئینی پٹیشن دائر کی لیکن بدقسمتی سے عدالت عالیہ ساڑھے تین سال تک غیرقانونی طورپرمسلط وائس چانسلر کی پٹیشن کو طول دیتا رہا اور آخر میں انصاف کے برخلاف فیصلہ دیا اور واضح طور پر غیرقانونی تعیناتی کو جائز قرار دیا نتیجے میں نااہل وائس چانسلر جامعہ بلوچستان کو موقع دیا کہ وہ مذید جامعہ بلوچستان کو مالی اور انتظامی بحران میں مبتلا کردیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج صورتحال یہ ہے کہ جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کرام اور ملازمین اپنی بنیادی حق تنخواہ اور پنشنر سے محروم ہیں جبکہ کئی مہینوں کی بقایاجات کی ادائیگی بھی باقی ہیں۔ تشویش ناک امر یہ ہے کہ سابقہ مرکزی و صوبائی حکومت، ایچ ای سی اور موجودہ نگران حکومتوں نے مکمل طور پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی اور صوبے کی اکثر سیاسی جماعتوں نے بھی واضح طورپر مسلط وائس چانسلر کو برطرف کرنے کی سنجیدہ کوششیں نہیں کی جو ایک بڑا المیہ ہے۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مسلسل نااہل وائس چانسلر کی غیرقانونی تعیناتی اور انکے تعلیم وصوبہ دشمن اقدامات کے خلاف آواز اٹھاتی رہی نتیجے میں گورنر و چانسلر جامعہ بلوچستان نے غیرقانونی طورپرمسلط وائس چانسلر کو 2022 کو برطرف کیا لیکن ایک بار پھر عدالت عالیہ نے انصاف کے تقاضوں کے برخلاف فیصلہ دیتے ہوئے انکو بحال کرکے موقع دیا کہ جامعہ بلوچستان کو مذید مالی و انتظامی بحران میں دھکیلے۔ آج گوکہ غیرقانونی طورپرمسلط وائس چانسلر کی سبکدوش ہو ئی لیکن جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان مطالبہ کرتی ہے کہ ایک اعلی سطحی بااختیار انکوائری کمیٹی تشکیل دے کر غیرقانونی طورپرمسلط وائس چانسلر کی تعیناتی میں ملوث تمام کرداروں کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ انکے چار سالہ دور میں کرپشن، کمیشن اور تعلیم دشمن اقدامات کی نشاندہی کر کے قرار واقعی سزا تجویز کریں۔

بیان میں انکی سبکدوشی پر یوم تشکر منانے اور انکے ساتھ ساتھ انکی حواریوں کے ساتھ مکمل سماجی بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment