بلوچستان کے ساحلی علاقے پسنی میں پاکستانی فورسز نے ایک طالب علم کوجبری طور پر لاپتہ کیا جس کے ردعمل میں ساتھی طلبا نے احتجاجاً روڈ بلاک کردیا۔
لاپتہ کیےجانے والے نوجوان کی شناخت محبوب بلوچ کے نام سے ہوگئی ہے جو تربت کا رہائشی اور لومز یونیورسٹی لسبیلہ اوتھل میں بی بی اے 5th سیمسٹر کے طالب ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محبوب بلوچ چھٹیوں میں اپنے گھر جا رہے تھے کہ پسنی میں بدوک چیک پوسٹ پر دوران سفر فورسز نے انہیں گاڑی سے اتارکر حراست میں لیکر جبری طور پرلاپتہ کردیا۔
فورسز ہاتھوں محبوب بلوچ کی جبری گمشدگی کے ردعمل میں ساتھی طلبا اور خواتین نے نے احتجاجاً روڈ بلاک کردیا جس کے باعث ٹریفک معطل ہوگیا۔
طلبا کی جانب سے محبوب بلوچ کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا گیا۔
روڈ بلاک دھرنا تاحال جاری یے ۔ دھرنا مظاہرین کی قیادت کرنے والے ماسی رشیدہ کا کہنا ہے کہ جب تک لاپتہ کیے جانے والے نوجوان کو رہا نہیں کیا جائے گا دھرنا جاری رہے گا اور روڈ بلاک رہے گا۔
دریں اثنا تربت کے علاقے سامی سے لاپتا کیے جانے ہوالے واحد بخش کی بازیابی کیلئے لواحقین کا احتجاجی دھرناسی پیک کے مرکزی شاہراہ پر جاری ہے۔
واحد بخش کے لواحقین نے آج دوسرے روز بھی سامی کے مقام پر احتجاجی دھرنا دیتے ہوئے سی پیک روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر رکھا ہے۔
اہل خانہ کا مطالبہ ہے کہ واحد بخش کو بحفاظت بازیاب کیا جائے۔