پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں گذشتہ روز سیکورٹی فورسز پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیاکہ سڑک کنارے نصب باروری مواد کے دھماکے اور فائرنگ کے تبادلے میں سکیورٹی فورسز کے 5 جوان ہلاک ہوگئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 3 حملہ آور بھی مارے گئے۔
حسب معمول آئی ایس پی آر نے اپنے سیکورٹی فورسز کا مورال ڈائون ہونے سے بچانے کیلئے 3 حملہ آوروں کی ہلاکت کا بھی دعویٰ بھی کیا لیکن دعوے میں مارے جانے والے 3 حملہ آوروں کی شناخت میڈیا میں ظاہر نہیں کی جس سے اس بات کا خدشے موجود ہے کہ بعد ازاں ریاستی عقوبت خانوں میں قید 3لاپتہ افراد کو جعلی انکائونٹر میں مارکر انہیں مذرکورہ تینوں حملہ آوروں کی شکل میں ظاہر کیا جائےگا ۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع کیچ کی تحصیل زمران کے علاقے بلیدہ میں حملہ آوروں کی جانب سے بچھائی گئی آئی ای ڈی دھماکے کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی کو نقصان پہنچا۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ آئی ای ڈی دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز اورحملہ آوروںکے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور 5 جوان بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے ہلاک ہوگئے۔
آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا کہ فائرنگ کے تبادلے میں 3 حملہ آور بھی مارے گئے۔
بیان میں کہاگیا کہ ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی شناخت سپاہی ٹیپو رزاق، سپاہی سنی شوکت، سپاہی شفیع اللہ، لانس نائیک طارق علی اور سپاہی محمد طارق خان شامل ہیں۔
اس حملے کی ذمہ داری بلوچ مسلح تنظیم بی ایل ایف نے قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ حملے میں5 اہلکار ہلاک جبکہ ایک میجرسمیت 2افراد ذکمی ہوگئے تھے۔