پاکستان کے اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو حکم دیا ہے کہ وہ آدھے گھنٹے میں بتائیں کہ تمام بلوچ مظاہرین کہاں ہیں؟
اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا جس پر اب آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر عدالت میں پیش ہو گئے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس مظاہرے کے منتظمین کو لے جائیں اورجو لوگ پولیس کے پاس ہیں اُن کو ان کے حوالے کر دیں۔
اس پر درخواست گزار کی وکیل ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ ’کل ان کا بیان تھا کہ خواتین ان کی حراست میں نہیں ہیں۔
اس درخواست پر سماعت کرنے والے چیف جسٹس عامر فاروق نے کا آئی جی اسلام آباد سے کہا کہ ’کیا خواتین کے پولیس سٹیشن میں خود ہی بند کر لیا تھا؟ کل آپ نے کہا کوئی بچہ کوئی خاتون نہیں تھی، کون اپنی مرضی سے تھانے میں بیٹھتا ہے۔‘
اس پر عدالت جی جانب سے آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر کو یہ ہدایت کی گئی کہ ’وہ تحریری طور پر بتائیں کہ کتنی خواتین اور بچوں کو گرفتار کیا گیا؟ ویمن پولیس سٹیشن میں کتنی تھیں کتنی گئیں وہ رپورٹ دیں، مناسب یہی ہے آپ پٹشنر ان کے وکلا کو مطمئن کریں، جتنے آپ کی حراست میں تھے جتنے آپ نے رہا کئے، سب کے بارے میں تفصیلی طور پر آگاہ کریں۔‘
سماعت کے دوران صحافی حامد میر کا عدالت میں کہنا تھا ’کل عدالت کو بتایا گیا کہ تمام خواتین کو رہا کر دیا گیا، تین وفاقی وزرا نے پریس کانفرنس کی کہ تمام خواتین کو رہا کر دیا گیا، مجھے بتایا گیا کہ کسی بھی خاتون کو رہا نہیں کیا گیا، میں بھی ویمن پولیس سٹیشن چلا گیا، خواتین بچیوں کو گھسیٹ کر لا رہے تھے میرا موبائل چھین لیا گیا۔‘
حامد میر کی بات سُننے کے بعد چیف جسٹس عامر فاروق نے آئی جی اسلام آباد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ نہیں ہونا چاہیے تھا یہ طریقہ نہیں ہے، احتجاج میں یہ ہوتا ہے لیکن ان کے ساتھ اس طرح کرنا مارنا پیٹنا درست نہیں، حامد میر سینئر صحافی ہیں ان کے ساتھ ایسا رویہ، آخر ہم کس زمانے میں رہ رہے ہیں۔‘
چیف جسٹس عامر فاروق کا آئی جی اسلام آباد سے مزید کہنا تھا کہ ’سٹریٹ کرائمز اتنے بڑھ گئے ہیں جو کام آپ کے کرنے والے ہیں وہ نہیں کرتے۔‘
اس عدالتی استفسار کے بعد آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ ’میں حامد میر صاحب سے معذرت کرتا ہوں، تہذیب کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے ہمارے افسران کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘