اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور33 لانگ مارچ شرکاکو رہا کرنے کا حکم دیا ہے ۔
رہائی کا یہ حکم پانچ، پانچ ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض دیاگیا۔
لانگ مارچ کے منتظمین نے گرفتاریوں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، درخواست میں سیکریٹری داخلہ،آئی جی اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد درخواست میں فریق بنایا گیا ہے، اس کے علاوہ تھانہ ترنول، رمنا، شالیمار، سیکریٹریٹ، ویمن تھانہ، مارگلہ کے ایس ایچ اوز کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔
لانگ مارچ منتظمین سمی بلوچ اور عبد السلام نے وکیل ایمان مزاری کے ذریعے درخواست دائر کی، لانگ مارچ کے شرکا نے آج ہی اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست پر سماعت کی استدعا کی۔
درخواست کے ساتھ مرد و خواتین ، یونیورسٹی طلبہ سمیت 68 گرفتار مظاہرین کے نام بھی شامل ہیں، اس میں کہا گیا ہے کہ چھ دسمبر تربت سے اسلام آباد کے لئے لانگ مارچ شروع ہوا ، بلوچ جبری لاپتہ افراد کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواستیں زیر التوا ہیں ، رات 86 کے قریب کے لانگ مارچ کے شرکا کو گرفتار کر لیا گیا۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ تمام احتجاجی مظاہرین کو فوری رہا کرنے کا حکم دیا جائے ، لانگ مارچ کے شرکا کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب کی جائیں، لانگ مارچ کے شرکا کو ہراساں کرنے روکا جائے، احتجاج کے آئینی حق سے روکنے کے حکم کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔
لانگ مارچ کے منتظمین کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ نے آج ہی سماعت کے لیے مقرر کی جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی، ایمان مزاری ایڈوکیٹ نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کی جانب سے پر امن بلوچ مظاہرین کو گرفتار کرلیا گیا، پرامن احتجاجی مظاہرین پر واٹر کینن، لاٹھی چارج کا استعمال کیا گیا۔
اس دوران عدالت نے درخواست پر اعتراضات دور کرتے ہوئے فریقین کو چار بجے تک ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا، عدالت کی جانب سے آئی جی اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا ہے۔
چار بجے سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو جوڈیشل مجسٹریٹ شبیر بھٹی کی عدالت میں سماعت کے دوران وفاقی پولیس نے گرفتارڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت33 افراد کو عدالت میں پیش کیا۔
اس موقع پر پولیس کی جانب سے ڈاکٹرماہ رنگ بلوچ سمیت 8 مظاہرین کے جسمانی ریمانڈ استدعا کی گئی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔
پولیس کی جانب سے 25 مظاہرین کے شناخت پریڈ کے لیے وقت مانگا گیا، جس پر عدالت نے شناخت پریڈ کی استدعا بھی مسترد کردی اور تمام 33 مظاہرین کو ضمانت پر رہائی کے لیے پانچ، پانچ ہزار روپے مالیت کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔
عدالت نے کہاکہ ضمانتی مچلکے جمع کروانے تک مظاہرین کو اڈیالہ جیل میں جوڈیشل ریمانڈ پر رکھا جائے۔
عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی لگائی گئی دفعہ 395 اور 440 حقائق پر پورا نہیں اترتیں، مقدمے میں دیگر تمام دفعات قابل ضمانت دفعات ہیں اور گرفتار تمام ملزمان کو پانچ ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت دی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ بلوچ نسل کشی وجبری گمشدگیوں کے خلاف بلوچ خواتین کی قیادت میں گزشتہ روز وفاقی دارالحکومت پہنچنے والے لانگ مارچ میں شرکا کے خلاف اسلام آباد پولیس نے رات گئے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے انہیں تشددکا نشانہ تمام بلوچ مظاہرین کو گرفتار کرلیا تھا۔