پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان میں پاکستانی فوج کے ایک کیمپ پر ہونے والے ایک بارودی حملے میں ہلاک اہلکاروں کی تعداد 23 ہوگئی ہے ۔
اس حملے کی ذمے داری تحریک جہاد پاکستان نے قبول کر لی ہے۔
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں 23 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے۔
بیان میں دعویٰ کیاگیا کہ پیر اور منگل کی درمیانی شب چھمسلح حملہ آوروں نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن میں سیکیورٹی فورسز کی چوکی پر حملہ کر کے وہاں داخل ہونے کی کوشش کی جسے ناکام بنا دیا۔ بعد ازں حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی کو کیمپ کے مرکزی دروازے سے ٹکرا دیا اور اس کے بعد خود کش دھماکہ بھی کیا گیا۔
آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا کہ جوابی کارروائی میں6 حملہ آور مارے گئے۔
اس حملے میں عسکریت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں 34 فوجی زخمی بھی ہو گئے۔
خدشہ ہے کہ فوجی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ درجنوں زخمیوں میں سے کئی کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔