قلات میں لانگ مارچ لواحقین کاشانداراستقبال ،آج منگچر سے ریلی نکالنے کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

تربت سے روانہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی لانگ مارچ خضدارو سوراب میں ریاستی مشینری کی تمام تر رکاٹوں،تشددو تذلیل اور راستوں کی بندش کے باوجود ہمت عزم کے ساتھ قلات پہنچ گیا۔

قلات میں کوئٹہ ٹوکراچی شاہراہ مغل چوک کے مقام پر لگائے گئے کیمپ کے شرکاءو لاپتہ افراد کے مرد و خواتین نے لانگ مارچ کے شرکا کا شانداراستقبال کیا۔

اس موقع پر مرد اور خواتین کی بڑی تعداد موجود تھی ۔

شرکانےمغل چوک کے مقام پر ٹائر جلا کر دھرنا دیا۔

https://twitter.com/BYCKech/status/1733905105773273261

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرقلات میں رات کے 10 بجے کے تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ نہتے مظاہرین پر ریاستی دہشتگردی اور تشدد کے باوجود رات کو 10 بجے تک سینکڑوں خواتین و نوجوانوں نے مرکزی شاہراہ پر لانگ مارچ کے شرکاء کے ہمراہ دھرنا دیا جہاں قلات سے لاپتہ افراد کے لواحقین نے مارچ سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا اور اپنے پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔

سڑک بلاک ہونے کی وجہ سے دونوں جانب گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

شرکاءنے پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے رکھے تھے جن پربینرز پر مختلف لاپتا افراد کی تصاویر اور مختلف نعرے درج تھے۔

اس موقع پر قلات سے لاپتا افراد کی لواحقین سمیت شرکاءنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ تربت واقعہ افسوسناک ہے کہا کہ ہمارے پیاروں کو لاپتا کر کے ان کا جعلی انکاونٹر کیا جا رہا ہے۔ ہمارے پیارے کئی سالوں سے لاپتا ہیں اگر انہوں نے کوئی گناہ کیا ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے اور قانون کے مطابق مقدمہ چلایا جائے ۔

مقررین کا کہنا تھا کہ مختلف علاقوں میں ہمارے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں اور ہمارے قافلے کو روکنے کی کوشش کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں انصاف چاہیئے ہم انصاف کے لئے نکلے ہیں جب تک ہمیں انصاف فراہم نہیں کیا جاتا ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کہنا تھا کہ قلات میں احتجاج کے بعد لانگ مارچ منگچر کی جانب روانہ ہو گئی ہے جہاں رات کو قیام کیا جائے گا۔ کل قلات اور منگچر سے تمام لوگ منگچر سے لانگ مارچ کا ساتھ دیں۔

جبکہ ریاست کو لانگ مارچ کی جانب سے پیغام دیا جاتا ہے کہ اگر اب پولیس نے تشدد اور راستہ روکنے کی کوشش کی تو مرکزی شاہرہ کو مکمل طور پر بند کیا جائے گا اور روڈ پر ہی دھرنا دیا جائے گا۔

Share This Article
Leave a Comment