بلوچستان کے علاقے دکی میں معراج کول مائننگ ایریا کے پیٹی ٹھیکیداران امان اللہ ناصر،حاجی عصمت اللہ ناصر اور عبدالعزیز زرکون سمیت دیگر نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایف سی اور ضلعی انتظامیہ معراج کول مائننگ ایریا کو سیکورٹی دینے میں ناکام ہوچکی ہیں۔230 روپے ٹیکس کی وصولی کے باجود ایف سی کی جانب سے سیکورٹی نہیں دی جارہی ہے۔عبدالحئی لونی کمیٹی کا فیصلہ تسلیم نہیں کررہاہے۔16 دسمبر کو بلوچستان ہائی کورٹ کے سامنے مظاہرہ جبکہ 17 دسمبر کو گورنر ہاس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرکے دھرنا دینگے۔
انہوں نے کہا کہ معراج کول مائننگ ایریے کی بندش کی وجہ سے اس وقت چار سو سے زائد کوئلہ کی کانیں بند ہوگئی ہیں جسکی وجہ سے ہزراوں مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایریا کے متعلق کمیٹی نے فیصلہ کیا تھا جسے ہم نے من وعن تسلیم کیا مگر عبدالحی لونی اور انکے دیگر غنڈے کمیٹی کے فیصلے کو تسلیم نہیں کررہے اور بزور طاقت تاحال ایریا کو بند کررکا ہے۔جسکی وجہ سے ایریا سے کوئلے کی لوڈنگ ترسیل اور کانکنی مکمل طور پر بند ہوگئی ہے۔ایف سی ضلعی انتظامیہ اور دیگر ادارے اشتہاری ملزم عبدالحئی لونی کو گرفتار نہیں کررہی اور نہ ہی تاحال انکی گرفتاری کی کوئی کوشش کی گئی ہے۔عبدالحئی لونی کھلے عام وارداتیں کرکے سوشل میڈیا پر خود انکا اعتراف کرتا ہے مگر اسکے باجود ایف سی انہیں گرفتار نہیں کررہی اور نہ ہی سیکورٹی معاہدے پر عملدر آمد کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کورکمانڈر آئی جی ایف سی بلوچستان اور چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا ہے کہ اشتہاری ملزمان کو گرفتار کرکے مقررہ تاریخ تک ہمیں سیکورٹی فراہم کی جائے بصورت دیگر ہم اس حوالے سے سخت احتجاج کریںگے۔
واضع رہے کہ پاکستانی فوج بلوچستان بھر میں سرمایہ کارکمپنیوں کو معدنیات نکالنے کیلئے مکمل سیکورٹی فراہم کرنے کی حامی بھرتی ہے لیکن بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کے حملوں کے پیش نظر اپنی جان بچانے کیلئے مذکورہ کمپنیوں کوتن تنہاچھوڑ دیتی ہے جس سے سرمایہ کار کمپنیاں خدشات و تحفظات کااظہار کرتی ہیں۔