بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں گذشتہ ایک ہفتے سے جاری دھرنے میں رکھے گئے مقتول بالاچ بلوچ کی میت کو آج بروزبدھ کو 12 بجے ایک ریلی کی شکل میں کوہ ِمراد لے جاکر دفنایا جائیگا۔
آج تربت بھر میں شٹرڈائون ہڑتال ہے اورتمام کاروباری مراکز بند ہیں۔
سی ٹی ڈی کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں قتل کئے گئے بالاچ بلوچ کی تدفین کے بعد بھی شہید فدا چوک میں جاری دھرنے کو جاری رکھنے کا علان کیا گیا ہے ۔
اس سلسلے میں گذشتہ روزبلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں نے بالاچ مولا بخش کی فیملی کے ہمراہ شہید فداچوک میں جاری احتجاجی کیمپ میں ایک پرہجوم ہنگامی پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ بدھ کی صبح 12 بجے بالاچ مولابخش کے میت کو کوہ مراد کے قبرستان میں دفن کیا جائیگا۔
انہوں نے کہاکہ لاش کی تدفین کے باوجود شہید فدا چوک پر احتجاجی کیمپ جاری رہے گا اور شہر میں شٹرڈاؤن بدستور ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ انتظامیہ اور بکاؤ سیاست دان نا ہمارے غم کا مداوا کر پا رہے ہیں، نا قاتلوں کے سامنے اپنی بے بسی کا اعلان کر پارہے ہیں، ہم اول روز سے کہہ رہے ہیں کہ یہ جنگ بقا کی جنگ ہے، یہ دھرنا زندگیوں کے لیے، قاتل کو لگام دینا لازم اور اہم ہو چکا ہے، ڈی جی خان سے لیکر ساحل گوادر تک اب کوئی بلوچ نیکرو پالیسیز کا حصہ نا ہو، ہماری مائیں ہمیں لاپتہ ہونے، و فیک انکاونٹر میں قتل ہونے کے لیے نہیں جنتے۔
واضع رہے کہ ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے علاقے بانک ئِ چڑھائی میں گذشتہ دنوں 22نومبر کی رات سی ٹی ڈی نے ایک جعلی مقابلے میں 4افراد کو قتل کرکے 23 نومبر کو ان کی لاشیں تربت ٹیچنگ ہسپتال میںمنتقل کردیںاور دعویٰ کیا کہ ایک مقابلے میں مذکورہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ان چاروں افراد کی شناخت بطور لاپتہ افراد کے ہوگئی ہے جنہیں مختلف اوقات میں پاکستانی فورسز نے مختلف علاقوں سے حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا تھا۔
جعلی مقابلے میں قتل کئے گئے ان چار افراد میں بالاچ مولابخش کے اہلخانہ و دیگر سیاسی سماجی حلقے گذشتہ 5دنوں سے تربت میں سراپا حتجاج ہیں اور شہید فدا چوک پر میت کے ہمراہ دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔جبکہ سیشن کورٹ نے پولیس کو بالاچ کے جعلی مقابلے میں قتل کامقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے لیکن اب تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔