پاکستانی فورسز کے ہاتھوں گذشتہ پانچ سالوں سے لاپتہ راشد حسین بلوچ کی بازیابی کیلئے اسلام آباد میں احتجاجی کیمپ قائم کرلیا گیا ہے ۔
اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ میں لاپتہ راشد حسین کی والدہ ، بھتیجی ماہ زیب لاپتہ آصف اور رشید کی ہمشیرہ سائرہ بلوچ ، لاپتہ جہانزیب کی والدہ، لاپتہ سعید احمد کی والدہ سمیت دیگر لاپتہ افراد کے اہلخانہ اور بلوچ طلبا موجود ہیں۔
اس سلسلے میں لاپتہ راشد حسین بلوچ کی ہمشیرہ فریدہ بلوچ نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ پانچ سالوں سے جبری لاپتہ راشد حسین کی بازیابی کیلئے اسلام آباد پریس ،کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ قائم کیا گیا ہے۔
انہوں نے اپنے پوسٹ میں راشد حسین سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی اور جبری گمشدگی کے خاتمے کیلئے تمام انسان دوست اور دیگر افراد سے شرکت کی اپیل کی ہے۔
واضع رہے کہ راشد حسین ایک بلوچ سیاسی اور سماجی کارکن ہیں جنہیں پانچ سال قبل متحدہ عرب امارات کے شہر شارجہ سے وہاں کے خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے اٹھا کر جبری لاپتہ کیا تھا جسے بعد میں غیر قانونی طور پر پاکستان منتقل کیا گیا، جس کے شواہد متعدد بار انکے لواحقین سامنے لا چکے ہیں۔
راشد حسین کی بازیابی کیلئے ان کی والدہ اور بھتیجی ماہ زیب اسلام آباد اور کوئٹہ کے احتجاجی دھرنوں میں بھی شریک رہے ہیں۔انہوں نے بلوچستان سمیت پاکستان بھر میں احتجاج و مظاہرے ریکارڈ کرائے ہیں لیکن المیہ کی بات ہے کہ غیر قانونی جبری گمشدگی کے باوجود انہیں اب تک منظر عام پر لایا نہیں جا رہا ہے۔