پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں آج لبرٹی چوک پر بلوچ یکجہتی کمیٹی لاہور کے زیرِ اہتمام بلوچستان بھر میں سی ٹی ڈی کی جانب سے بلوچ لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں قتل کرنے اور کیچ میں بالاچ کی میت کے ساتھ جاری دھرنے کی حمایت میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
اس احتجاج میں پروگریسو یوتھ الائنس کے کارکنان نے شرکت کی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔
مظاہرے میں بلوچ طلبا و طالبات کی بڑی تعداد شریک تھی جنہوں نے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے۔
اس موقع پر انہوں نے کہاکہ ہم ان تمام تر لاپتا افراد کی محفوظ بازیابی یا عدالتوں میں پیش کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ ہم لاپتہ افراد کی ماورائے عدالت جعلی مقدمات میں قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ لاپتہ افراد کے قتل عام میں ملوث سیکیورٹی اہلکاروں کو قانون کے کٹہرے میں لاتے ہوئے ان کیخلاف کاروائی کی جائے۔
انکا کہنا تھا کہ ہم لاپتہ افراد کی محفوظ بازیابی یا عدالتوں میں پیش کرنے کے حوالے سے بلوچستان سمیت پاکستان بھر کے سیاسی کارکنوں، نوجوانوں، طلبہ اور محنت کشوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اس ظلم اور ناانصافی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں۔
مظاہرین نے کہاکہ بلوچستان میں زیر حراست افراد کو ٹارچر سیلوں سے نکال کر جعلی مقابلوں میں مارنے کا سلسلہ تیز کیا گیا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ لوگوں کی جبری گمشدگی کا سلسلہ بند کرکے زیر حراست افراد کو جعلی مقابلوں میں قتل کرنے کے بجائے عدالتوں میں پیش کیا جائے۔
خیال رہے کہ بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے علاقے بانک ئِ چڑھائی میں گذشتہ دنوں 22نومبر کی رات سی ٹی ڈی نے ایک جعلی مقابلے میں 4افراد کو قتل کرکے 23 نومبر کو ان کی لاشیں تربت ٹیچنگ ہسپتال میںمنتقل کردیںاور دعویٰ کیا کہ ایک مقابلے میں مذکورہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ان چاروں افراد کی شناخت بطور لاپتہ افراد کے ہوگئی ہے جنہیں مختلف اوقات میں پاکستانی فورسز نے مختلف علاقوں سے حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا تھا۔
جعلی مقابلے میں قتل کئے گئے ان چار افراد میں بالاچ مولابخش کے اہلخانہ و دیگر سیاسی سماجی حلقے گذشتہ 4دنوں سے تربت میں سراپا حتجاج ہیں اور شہید فدا چوک پر میت کے ہمراہ دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔