بلوچستان کے علاقے چاغی میں لیویزفورسزپرحملے میں 3اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ ضلع خضدار سےپاکستانی فورسز نے 2نوجوانوں کو جبراً لاپتہ کردیا ہے ۔
بلوچستان کے ضلع چاغی میں نامعلوم مسلح افرادنے لیویز چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 3 اہلکار زخمی ہو گئے۔
ضلعی انتظامیہ نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ چاغی کے علاقے پاک آر سی ڈی شاہراہ کے قریب لیویز چیک پوسٹ گزن پر ڈبل کیبن میں سوار دس سے زائد مسلح افراد نے جدید اسلحہ سے حملہ کر دیا۔
اسسٹنٹ کمشنر دالبندین چاغی کے مطابق فائرنگ سے لیویز فورس کے 3 اہلکار زخمی ہوگئے۔ زخمی ہونے والوں میں حوالدار نعیم، کانسٹیبل مقصود اور کانسٹیبل عبدالمالک شامل ہیں۔
انہوں نے دعویٰ ہے کہ لیویز فورس کی فوری جوابی فائرنگ سے حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حملہ آوروں کا پیچھا کررہے ہیں۔
دوسری جانب ضلع خضدار کے علاقے زہری اور نال سے فورسز نے 2 نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کیا ہے ۔
علاقائی ذرائع کے مطابق ضلع خضدار کے زہری کے علاقے کہن سے گذشتہ روز ایک بجے کے قریب فورسز اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے لیاقت ولد صالح محمد نامی ایک نوجوان کو اس وقت جبری طور پر لاپتہ کیا جب وہ اپنے پرچون کے دکان میں بیٹھا تھا۔
عینی شاہدین کے مطابق یک بوزی، زہری کے رہائشی نوجوان کو جبری لاپتہ کرنے کے وقت فورسز کے اہلکاروں نے علاقے کا گھیراؤ کیا جبکہ اس موقع پر ان کے ہمراہ سادہ کپڑوں میں خفیہ اداروں کے اہلکار بھی موجود تھے۔
دریں اثنا ضلع خضدار کے علاقے نال کوڑاسک سے آج دوپہر کو پاکستانی فورسز نے ایک نوجوان کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیاہے ۔
لاپتہ ہونے والے نوجوان کی شناخت لیاقت ولد سخی داد کے نام سے ہوئی ہے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق مذکورہ نوجوان کی دو روز بعد شادی ہونے والی تھی جبکہ فورسز نے اس کو اس وقت حراست میں لیا جب وہ شادی کی تقریب کی تیاریوں میں مصروف تھا۔