محکمہ فشریزبلوچستان کی غیرقانی فشنگ ٹرالرزسے گٹھ جوڑاور بھتہ خوری کی وجہ سے مقامی ماہی گیروں میں فاقے کی نوبت آگئی ہے ۔
بلوچستان کے ضلع لسبیلہ سے مقامی ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ محکمہ فشریز حب لسبیلہ کے آفیسروں نے رشوت اور بھتہ خوری کا بازار گرم کررکھا ہے، ممنوعہ جال سے شکار کرنے والے ٹرالر اور کشتیوں سے روزانہ لاکھوں روپے بھتہ لےکر چھوٹے ماہی گیروں کو نان شبینہ کے لئے محتاج کردیا ہے۔
واضع رہے کہ بلوچستان فشریز ایکٹ کے تحت بلوچستان کے سمندری حدود کے بارہ نائیکل میل کے اندر گجہ (وائر)نیٹ اور دیگر غیر ممنوعہ جالز کا استعمال کرنا منع ہے ۔
ماہی گیروں کاکہنا ہے کہ محکمہ فشریز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور انسپکٹر کی ملی بھگت اور بھتہ خوری کی وجہ سے گجا جال کے ذریعہ شکار کرنے والے ٹرالر ڈام ہور کے گیٹ تک کے ممنوعہ علاقے میں آکر فشنگ کرتے ہیں ۔اس کے علاوہ ڈام کے کچھ فائبر بوٹس کے سہولت کار کا کردار ادا کرتے ہیں جنہیں محکمہ فشریز کی مکمل آشیرباد حاصل ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ فائبر بوٹس م غیر قانونی شکار کرنے والے ٹرالرز کو ڈیزل، راشن،گٹکا پانی وغیرہ بھی پہنچاتے ہیں اس سلسلے میں ڈائریکٹر فشریز نے ایک لیٹر بھی جاری کیا گیا ہے جس میں سہولت کار فائبر بوٹس کے مالکان کے خلاف کاروائی کرنے کی ہدایت کی گئی ہےلیکن محکمہ فشریز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سہولت کاروں کے خلاف قانونی کاروائی کرنے سے گریزاں ہے ۔اس سلسلے میں چھوٹے ماہی گیر کئی بار احتجاج بھی کرچکے ہیں۔
ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ لسبیلہ و حب کی ساحلی پٹی گڈانی، ڈام ،کنڈ ملیر میں ٹرالرز مافیا محکمہ فشریز کی گٹھ جوڑ سے سمندری نسل کشی میں مصروف ہیں۔ محکمہ فشریز لسبیلہ کے انسپیکٹرز نے لسبیلہ کی ساحلی پٹی سندھ کے ٹرالرز مافیا کو ٹھیکے میں دے دی ہیں۔فشریز کے آفیسران کی جانب سےساحل سمندر گڈانی ،ڈام،کنڈ ملیر میں گجا نیٹ ٹرالرز مافیا ایک بار پھر سرگرم ہو گئے ہیں،ٹرالرز مافیا مچھلیوں کی نسل کشی اور ساحل سمندر لسبیلہ و حب میں سمندری حیات کا صفایا کرنے میں مصروف ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گجانیٹ والوں کی یلغار مقامی چھوٹی کشتیوں والے ماہیگیر شدید پریشان ہوکر رہ گئے ہیں۔ سندھ سے غیر قانونی طور پر آنیوالے ٹرالرز مافیا وائر نیٹ گجہ جال کا بے دریغ استعمال کرکے لسبیلہ کی ساحلی پٹی کو سمندری حیات سے مکمل تباہ کرنے میں مصروف ہیں۔
مقامی ماہی گیروں نے انکشاف کیا ہے کہ محکمہ فشریز کی جانب سے سندھ سے آنیوالے ٹرالرز مافیا سے کنڈملیر کی حدود میں175000(ایک لاکھ پچتر ہزار) گڈانی میں 100000 (ایک لاکھ) روپے فی ٹرالر وصول کیئے جاتے ہیں۔سندھ سے غیر قانونی طور پر ٹرالرز ایک جھنڈ کی شکل میں لسبیلہ کے ساحل پر آتے ہیں اور گجہ جال سے بڑی مقدار میں چھوٹی، بڑی مچھلیاں پکڑ کر لسبیلہ کے سمندر کو سمندری حیات سے بانجھ کرنے میں مصروف ہیں۔
لسبیلہ کے ماہیگیروں نے امن وامن کو برقرار رکھنے اورٹرالرمافیا کے سہولت کاروں کے درمیان میں ہونےوالے تصادم محکمہ فشرہز کے طرف سے سہولت کاروں کو سپورٹ کرنے اور بھتہ خوری کے خلاف ایس ایچ او وندر کوبھی ایک تحریری درخواست دے رکھی ہے۔ مقامی ماہی گیروں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان چیف سیکرٹری بلوچستان سیکرٹری فشریز سے مطالبہ کیا ہے کہ لسبیلہ کی ساحلی حدود میں غیر قانونی ٹرالر مافیا کو روک کر سمندری حیات کو بچایا جائے تاکہ یہاں کہ مقامی ماہیگیروں کا روزگار بند نہ ہو۔