بلوچستان کے ضلع پنجگور میں گذشتہ دنوں نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے عبداللہ شمبے زئی کے بھائی زبیر ایوب شمبے زئی، محمد ادریس شمبے زئی، عمر ماجد، حاجی عبدالغفار شمبےزئی، عبید اللہ شمبے زئی نے اپنی فیملی کے دیگر معززین اور بی این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل واجہ جہانزیب بلوچ، چیئرمین شعیب بلوچ، کفایت اللہ بلوچ، میر نذیر احمد کے ہمراہ خدابادان میں واقع اپنی رہائش پر ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 16 اکتوبر کی شام ہمارے ساتھ پیش آنے والا واقعہ کھلی دہشت گردی ہے جس میں گاڑی میں سوار میرے بھائی سمیت ہماری فیملی کے دیگر افراد کو گھات لگائے بیٹھے مسلح افراد نے ٹارگٹ کیا جس سے میرا بھائی عبداللہ شمبے زئی گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا اور میرا کزن تاج رحیم زخمی ہوگیا تاہم اس حملے میں میرے فیملی کے دیگر افراد معجزاتی طور پر محفوظ رہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا کسی سے کوئی ذاتی جھگڑا اور دشمنی نہیں ہے جن لوگوں نے میرے بھائی کا ناحق خون بہایا ہے چاہے وہ کسی مسلح تنظیم سے تعلق رکھتے ہوں یا کسی دوسرے گروہ سے انکا تعلق ہے وہ اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرکے ہمیں اتنا تو بتائیں کہ ہمارا قصور کیا تھا کیوں ہمیں ٹارگٹ کرکے میرے بھائی کو جاں بحق اور کزن کو زخمی کیاگیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ واقعہ کسی غلط فہمی کا نتیجہ تھا یا دانستہ ہوا ہے اس سے ہمیں آگاہ تو کیا جائے۔
زیبراحمد شمبے زئی نے کہا کہ ہم مظلوم ہیں مظلوم ہونے کے ناطے ہم اپنا مقدمہ اللہ تعالی پر چھوڑتے ہیں کہ وہی ہمارے ساتھ انصاف کرے ۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور دیگر ادارے اس واقعہ کی تہہ تک پہنچنے کے لیے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھا کرکے تفتیش کے جدید ذریعوں سے ملزمان تک پہنچنے کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں عوام کے جان ومال کا تحفظ ریاست اور اسکے اداروں کی ذمہ داری ہے، اس طرح ہمارے خاندان کو ٹارگٹ کرکے میرے بھائی کو جاں بحق اور کزن کو زخمی کرنا میں سمجھتا ہوں، ایک کھلی دہشت گردی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملزمان کا سراغ لگانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کو حرکت میں آنا چاہیے، بھائی کی موت کے بعد ہمارے گھر پر قیامت ٹوٹ چکی ہے بوڑھے والدین اور فیملی کے دیگر افراد انتہائی کرب اور رنج کے عالم میں ہیں اس بات کی گواہی پنجگور کا ہرفرد دے گا کہ حاجی محمد ایوب شمبے زئی اور اسکی فیملی کا کسی کے ساتھ کوئی جھگڑا اور لین دین کا مسلہ نہیں تھا میرے بھائی عبداللہ کی موت کے بعد جس طرح پنجگور کے غیور عوام اور سیاسی وسماجی شخصیات نے آکر ہمارے ساتھ اظہار ہمدردی کیا ہم انکے تہہ دل سے مشکور ہیں اور ریاست کے اہم ستون چیف جسٹس آف پاکستان چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ وزیراعلیٰ بلوچستان چیف سیکرٹری بلوچستان کمشنر مکران ڈپٹی کمشنر پنجگور ایس پی پنجگور اوردیگر اداروں کے سربراہاں سے ہم اپیل کرتے ہیں کہ میرے بھائی کی شہادت کا نوٹس لیکر ذمہ دار عناصر کا سراغ لگا کر انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ ہمارے ساتھ جو زیادتی ہوئی ہے ہمیں انصاف ملے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مظلوم ہونے کی حیثیت سے صرف انصاف کے حصول کیلئے اداروں سے اپیل کرسکتے ہیں، امید ہے کہ وہ اس مسئلے پر دلچسپی لیکر ہمیں انصاف دلائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا اگر عبداللہ کے قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار نہ کیا گیا ہم اپنے عزیز و اقارب اور دیگر سیاسی جماعتوں اور سول سائٹی کے رہنمائوں سے مشورے کرکے جمہوری انداز میں اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کرینگے۔
خیال رہے کہ بلوچستان میں پاکستانی فوج ، اس کے تشکیل کردہ مسلح گروہ اورآزادی پسند مسلح تنظیموں پر الزامات ہیں کہ وہ بغیر کسی ثبوت اپنی ذاتی عناد کے لئے کسی بھی شخص کو قتل کر دیتے ہیں اور لواحقین کو اصل وجہ بتانے کی جسارت بھی نہیں کرتے۔