اسرائیل اور و فلسطین میں جاری لڑائی میں دوونوں جانب ہلاکتوں کی تعداد 1113ہوگئیہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ حملوں میں اب تک اس کے 700 سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 413 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے اسرائیلی میوزک فیسٹیول کے مقام سے 250 سے زائد لاشیں برآمد کی ہیں۔ اس مقام پر حماس کے جنگجوؤں نے حملہ کیا تھا۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں فضائی حملوں سے 123,000 فلسطینی بے گھر ہوئے ہیں جن میں سے 74,000 کے قریب سکولوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
امریکہ نے اسرائیلی میں متعدد امریکی شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور اسرائیل کے لیے جنگی سازوسامان بھیج کر اور خطے میں افواج کو بڑھا کر حمایت کا اعلان بھی کیا ہے۔
اسرائیل نے حماس کے اچانک حملے کے جواب میں غزہ پر فضائی حملے کیے ہیں۔ غزہ کی پٹی تقریباً 2.3 ملین افراد کا گھر ہے۔
فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ اسرائیلی حملوں 400 سے زائد افراد ہلاک اور 2300 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ اب بھی اسرائیل کے اندر حماس کے عسکریت پسندوں کے ساتھ لڑائی جاری ہے۔
پیر کی صبح اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے ایک بریفنگ میں بتایا کہ اسرائیلی فورسز غزہ کی پٹی کے قریب جنوبی اسرائیل میں سات سے آٹھ مقامات پر حماس کے مسلح جنگوؤں کے ساتھ لڑ رہی ہیں۔
ان علاقوں میں بیری بھی شامل ہے، جو ایک زرعی علاقہ ہے جہاں حماس کے جنگجو راتوں رات گھس گئے۔ آئی ڈی ایف نے کہا کہ بہت سے عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں، لیکن دیگر اب بھی کبوتز میں گھروں میں چھپے ہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے مزید کہا کہ اس نے غزہ میں ایک ہزار سے زائد اہداف پر حملے کیے ہیں۔
لیفٹیننٹ کرنل رچرڈ ہیچٹ نے صحافیوں کے ساتھ بریفنگ میں کہا کہ ’اس آپریشن کا دائرہ کچھ بالکل مختلف ہے۔۔۔چیزوں کو دفاعی انداز میں واپس لانے میں ہماری توقع سے زیادہ وقت لگ رہا ہے۔‘