لبنان اسرائیل 10 روزہ جنگ بندی کا آغاز، بیروت میں جشن

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے، جس کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا۔

معاہدے کے نافذ ہوتے ہی لبنان کے مختلف شہروں، خصوصاً بیروت میں جشن کے مناظر دیکھنے میں آئے، جبکہ بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد نے اپنے گھروں کو واپسی شروع کر دی ہے۔

لبنان کے صدر جوزف عون نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں امن کی جانب اہم قدم قرار دیا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی اس معاہدے کو ’تاریخی موقع‘ کہا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پائیدار امن کے لیے ایران کے حمایت یافتہ گروہ حزب اللہ کا غیر مسلح ہونا ضروری ہے۔

حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کی پاسداری کرے گی، لیکن معاہدے کے نافذ ہونے سے قبل اس کے جنگجو اسرائیلی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مصروف رہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر حزب اللہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس اہم مرحلے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، اور کہا کہ اگر ایسا ہوا تو یہ گروہ کے لیے ’بہت بڑا لمحہ‘ ہو سکتا ہے۔

اسرائیلی حکام نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ جنگ بندی کے دوران اسرائیل صرف اُس صورت میں کارروائی کرے گا جب حزب اللہ کی جانب سے کوئی فوری خطرہ لاحق ہو۔

ایران نے بھی اس پیش رفت کو اہم قرار دیا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق لبنان میں جنگ بندی پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے ابتدائی ایران‑امریکہ معاہدے کا حصہ تھی۔ انہوں نے جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا، قیدیوں کی رہائی اور بے گھر افراد کی واپسی کا مطالبہ کیا، جبکہ پاکستان کی کوششوں پر شکریہ بھی ادا کیا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی جنگ بندی کے لیے پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت حزب اللہ کی ثابت قدمی اور مزاحمتی محور کے اتحاد کا نتیجہ ہے، اور اسے مکمل کامیابی تک احتیاط کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا۔

دوسری جانب اسرائیل کے اندر جنگ بندی کے اعلان پر شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ شمالی اسرائیل میں نہاریا کے علاقے میں جنگ بندی کی خبر سامنے آتے ہی راکٹ حملوں کے سائرن بجے اور فضائی دفاع نے متعدد راکٹ فضا میں ہی روک لیے۔ طبی حکام کے مطابق معاہدے کے نافذ ہونے سے چند گھنٹے پہلے کم از کم تین افراد زخمی ہوئے جن میں دو کی حالت تشویشناک ہے۔ کئی شہریوں نے حکومت کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک دیرپا حل کی امید تھی، لیکن ایک بار پھر عارضی معاہدہ سامنے آیا ہے۔

جنگ بندی کے آغاز کے باوجود خطے میں بے یقینی برقرار ہے، اور تمام فریق اس پیش رفت کو اپنے اپنے زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔

Share This Article