مسائل کاحل نہ نکالاگیا تو مسلح جدوجہد کا سہارا لیں گے، مولانا ہدایت الرحمان

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

حق دو تحریک کے سربراہ وجماعت اسلامی بلوچستان کے سیکرٹری جنرل مولانا ہدایت الرحمٰن نےگذشتہ روز کوئٹہ میں پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر گوادر کے مسائل کا حل نہ نکالا گیا تو وہ مسلح جدوجہد شروع کرنے میں نہیںہچکچائیں گے ۔

ان کا کہنا تھا کہ جن مطالبات کی وجہ سے انہوں نے گوادر میں طویل دھرنے دیے، اب تک وہ مسائل حل نہیں ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ ’ٹرالر مافیا‘ بلوچستان کے ساحلوں میں کام کر رہا ہے، جس کی وجہ سے مقامی مچھیروں کے روزگار کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ فشریز اور دیگر اہم اتھارٹیز کی موجودگی کے با وجود یہ صورتحال جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان کی پُرامن کوششوں کو نظر انداز کیا گیا تو وہ ’مسلح جدوجہد‘ کا سہارا لیں گے۔

مولانا ہدایت الرحمٰن نے کہا کہ ہم نے گوادر کے تقریبا 9 اضلاع اور دیگر شہروں میں پُرامن دھرنے دیے، جن کا مقصد ان ٹرالر مافیا کو بلوچستان کے سمندروں سے دور کرنا، اسمگلنگ کی روک تھام، غیر ضروری چوکیوں کا خاتمہ اور دوسرے اہم مسائل کی طرف متوجہ مرکوز کرانا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سابق وزیر اعلیٰ عبد القدوس بزنجو نے معاہدے پر دستخط کیے تھے اور اس بات کی یقین دہانی کروائی تھی کہ ٹرالر مافیا کو صوبے کے ساحلوں کو استعمال کرنے سے روکیں گے اور غیر ضروری چیک پوسٹس کا خاتمہ کروائیں گے لیکن تاحال اس معاہدے پر کوئی عمل در آمد نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم آئینی حدود میں رہ کر اپنی پُرامن کوششیں جاری رکھیں گے کیونکہ اس کا تعلق مقامی آبادی کی بقا سے ہے۔

مولانا ہدایت الرحمٰن کے مطابق انہوں نے اپنے مطالبات سے نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ اور وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کو آگاہ کردیا ہے لیکن بدقسمتی سے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔

Share This Article
Leave a Comment