بلوچستان کے علاقے قلات کے بیروزگار نوجوانوں نے اپنی دو ہفتوں سے جاری علامتی بھوک ہڑتال ختم کرکے قلات سے کوئٹہ لانگ مارچ کا آغازکردیا ہے جو وزیراعلیٰ ہاوس کے سامنے احتجاج کرے گی۔
قلات میں حالیہ بھرتیوں میں مختلف پوسٹوں پر تعیناتیوں کی میرٹ لسٹ کی عدم فراہمی، اقلیتی و معذور کوٹوں پر دوسروں کی بھرتی، میرٹ کی پامالی و دیگر مسائل پر قلات ڈی سی آفس کے سامنے بیروزگار نوجوانان و سیاسی جماعتوں کی جانب سے علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ 14 دن جاری رہا جس کے بعد منگل کے روز بیروزگار نوجوان و سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں اور خواتین کے ہمراہ مختلف محکموں میں میرٹ کی پامالی کے خلاف کوئٹہ کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کردیاہے۔
لانگ مارچ میں کی قیادت حاجی عبدالواحد پندرانی کررہے ہیں جبکہ انکے ہمراہ مولوی منیر احمد میر صدام حسین لہڑی اسرار اللہ ساسولی فضل اللہ اور خواتین بھی شامل ہیں۔
انکا کہنا ہے کہ ہم نے 14 دن بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا لیکن انتظامیہ کی جانب سے ہمیں کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی اب ہم حقوق کے حصول کیلئے کوئٹہ کیلئے نکلے ہیں عوام کے حقوق پر کسی کو سودا بازی نہیں کرنے دینگے انکے حقوق لیکر آئینگے ہمیں بھرتیوں کی میرٹ لسٹ فراہم کی جائے اب نہیں فراہم کی جارہی تو واضح ہے کہ میرٹ کی پامالی ہورہی ہے۔ ہم عدالت عالیہ کا دروازہ کٹکٹھائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک مطالبات منظور نہ ہونگے ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔