ایران میں2خواتین صحافیوں کو جیل کی سزاسنادی گئی جبکہ افغانستان میں طالبان کی پابندیوں سے بچ کر5 افغان خواتین فرانس پہنچ گئیں۔
ایران کی 2 خواتین صحافیوں کو سازش اور ملی بھگت کے الزام میں تقریباً ایک ماہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنا پڑیں گی۔
ایران کے مقامی میڈیا کے مطابق یہ سزا تین سال کی جزوی طور پر معطل کی گئی قید کی سزا کے حصے کے طور پر دی گئی ہے۔
الناز محمدی کے وکیل امیر رئیسان نے اصلاح پسند ایرانی روزنامہ حم میہان کو بتایا ہے کہ نگین باقری اور الناز محمدی سزا کی مدت کا چالیسواں حصہ، یا ایک ماہ سے کم جیل میں قید رہیں گی۔ الناز محمدی اسی روزنامے میں کام کرتی ہیں۔
وکیل نے مزید کہا، "بقیہ سزا پانچ سالوں میں مکمل ہوگی ،” اس مدت کے دوران انہیں "پیشہ ورانہ اخلاقیات کی تربیت” کا کورس کرنا ہوگا اور ان کےملک چھوڑنے پر پابندی ہو گی۔
رئیسان نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ آیا فیصلے کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے، اور رپورٹ میں نامہ نگاروں کے خلاف الزامات کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔
محمدی کی بہن، الہی، جو خود بھی روزنامہ حم میہان کے لیے کام کرتی ہیں، پولیس کی حراست میں 22 سالہ مہسا امینی کی آخری رسومات کی رپورٹنگ کے بعد ستمبر دو ہزار بائیس سے جیل میں ہیں۔
دوسری جانب فرانسیسی عہدیدار کے مطابق پیر کے روز پانچ ایسی خواتین فرانس پہنچ گئیں جنہوں نے طالبان کے خوف سے بارہا فرانس آنے کی درخواست کی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ فرانس انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایسا راستہ فراہم کرے کہ جو خواتین عام زندگی میں پابندیوں کا شکار ہیں وہ افغانستان سے نکل سکیں۔
اگست 2021 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے طالبان حکام نے خواتین پر بہت طرح کی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ افغانستان میں خواتین کی تعلیم، گھر سے باہر ملازمتوں، پارکوں، جمنیزیم میں جانے اور بغیر محرم کے سفر کرنے پر پابندی کے احکامات نے افغان خواتین کے لیے ہر طرح کے مواقعے تقریباً ختم کر دیے ہیں۔
ان پر اقوامِ متحدہ کے اداروں اور دیگر غیر سرکاری تنظیمو ں کے ساتھ کام کرنے پر بھی پابندی ہے اور ہزاروں خواتین کو سرکاری ملازمتوں سے نکال دیا گیا ہے۔
اور یہی وجہ ہے کہ افغان خواتین اپنا وطن چھوڑ کر دیگر ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
فرانس میں امیگریشن اتھارٹی کے سربراہ ددئیے لیشی نے بتایا ہے کہ ایک صدارتی حکم کے تحت ایسی خواتین پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جنہیں افغان معاشرے میں اہم حیثیت رکھنے یا مغرب کے ساتھ رابطوں کے باعث طالبان سے خطرات لاحق ہیں۔
لیشی نے بتایا،” آج پہنچنے والی یہ پانچ خواتین انہیں میں سے ہیں۔”
ان میں ایک یونیورسٹی کی سابق ڈائریکٹر ہیں، ایک کسیNGO کی سابق کنسلٹینٹ، ٹی وی کی ایک سابق میزبان اور ایک کابل کے ایک خفیہ اسکول کی ٹیچر ہیں۔
ایک خاتون کے ہمراہ تین بچے بھی ہیں۔
یہ خواتین 2021 میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد ان لوگوں میں شامل نہیں ہو سکی تھیں جنہیں طیاروں کے ذریعے افغانستان سے نکالا جا رہا تھا۔
تب وہ بھاگ کر پاکستان چلی گئی تھیں جہاں انہیں عارضی پناہ دے دی گئی تھی۔
لیشی نے بتایا کہ فرانسیسی حکام نے انہیں وہاں سے نکالنے کے انتظامات کیے۔
فرانس پہنچنے کے بعد ان کا اندراج پناہ کی درخواست کرنے والوں میں کر دیا جائے گا اور لیشی کے مطابق جب تک ان کی پناہ گزین کی حیثیت کے لیے درخواستوں پر کارروائی ہو گی انہیں پناہ کے متلاشی کا اسٹیٹس دے کر رہائش مہیا کی جائے گی۔
فرانسیسی عہدیدار لیشی نے بتایا کہ اسی طرح دیگر ایسی خواتین کو بھی نکال لیا جائے گا جو ایسے ہی عہدوں پر فائز رہی ہیں۔