یونائیٹڈ بلوچ آرمی( یو بی اے)کے ترجمان مزار بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کچھی میں نائب تحصیلدار کوئٹہ شیر دل ابڑو اور ایک ریاستی مخبر کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان نے کہا کہ یونائیٹڈ بلوچ آرمی کے سرمچاروں 6 مارچ کو دوپہر تقریباً 12:30 بجے سرمچاروں نے ضلع کچھی کے علاقے نوشم کچھی اور ڈھاڈر کو ملانے والی شاہراہ پر ناکہ بندی کی اس دوران ایک مشکوک گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا گیا، تاہم گاڑی میں موجود شخص نے موقع سے فرار ہونے کی کوشش کی۔
ان کا کہنا تھا کہ فرار کی کوشش کے دوران سرمچاروں نے اس پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کوئٹہ کے نائب تحصیلدار شیر دل ابڑو موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
بیان میں کہا گیا کہ ناکہ بندی کے دوران ایک اور کارروائی میں دولت خان کیری ولد جیوڑں کو حراست میں لیا گیا، جو ریاستی مخبر کے طور پر کام کر رہا تھا اور بلوچ آزادی پسندوں کو پہلے ہی مطلوب تھا۔
انہوں نے کہا کہ دورانِ حراست تفتیش میں دولت خان کیری نے اپنے متعدد سنگین جرائم کا اعتراف کیا۔ اس نے بتایا کہ وہ ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر کئی بلوچ نوجوانوں کی گرفتاری کا سبب بنا، مختلف مواقع پر بلوچ آزادی پسندوں کی نشاندہی کرتا رہا، اور بلوچ آزادی پسند سنگت شہید اسماعیل عرف صوفی کی شہادت میں براہِ راست ملوث ہونے کا بھی اعتراف کیا۔
مزید تفتیش کے دوران اس نے ضلع کچھی اور ڈھاڈر کے مختلف علاقوں میں ریاست کے لیے کام کرنے والے کئی دیگر مخبروں کے نام بھی بتائے۔
ترجمان نے کہا کہ مذکورہ شخص گزشتہ کئی سالوں سے پاکستانی خفیہ اداروں کیلئے کام کررہا تھا ۔
آخر میں کہا گیا کہ سنگین جرائم کے اعترافات کے بعد بلوچ قومی عدالت نے دولت خان کیری کو قومی غداری کا مرتکب قرار دے کر سزائے موت سنائی جس پر گذشتہ روز 6 مارچ کو عمل درآمد کیا گیا ۔